Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah on Indus Water Treaty: پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کب بحال ہوگا؟ امت شاہ نے ایسا جواب دے دیا کہ شہباز شریف کی اڑ ی نیند

اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کے خلاف سخت قدم اٹھانا شروع کر دیا ہے

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے واضح کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو مستقل طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب یہ معاہدہ بحال نہیں ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان نے اس معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے اسے اب وہ پانی نہیں ملے گا ،جو اسے پہلے مل رہا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امت شاہ نے کہا کہ “نہیں، یہ (معاہدہ) کبھی بحال نہیں ہوگا۔ یکطرفہ طور پر بین الاقوامی معاہدوں کو منسوخ کرنا آسان نہیں ہے، لیکن ہمیں اسے معطل کرنے کا حق تھا اور ہم نے یہی کیا۔” انہوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن اور ترقی کے مقصد سے کیا گیا تھا ،لیکن جب اس کی شرائط ٹوٹ گئیں تو اس کا جواز ختم ہوگیا۔

بھارت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد کارروائی کی

22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کے خلاف سخت قدم اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس حملے میں 26 سیاح مارے گئے، جس سے بھارت میں غم و غصہ پھیل گیا۔ اس کے فوراً بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو فوری طور پر معطل کر دیا اور پاکستانی شہریوں کی بے دخلی جیسے کئی سفارتی فیصلے بھی لیے گئے۔

پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے امت شاہ نے کیا کہا؟

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پہلگام حملے کی سخت مذمت کی اور اسے کشمیر میں امن کو خراب کرنے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’پہلگام حملہ جان بوجھ کر کشمیر میں بڑھتی ہوئی سیاحت کو روکنے اور نوجوانوں کو ترقی کی راہ سے ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا، لیکن وادی کے لوگ اب پہلے سے کہیں زیادہ ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان نے جوابی کارروائی میں پاکستان کے ائیر بیس پر حملہ کرکے پاکستان کو جنگ بندی کی اپیل کرنے پر مجبور کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read