نئی دہلی: مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چھاپہ مار کارروائی کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ ممتا بنرجی حکومت اور ای ڈی کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران ای ڈی کے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے سے پہلے ہی ممتا حکومت نے سپریم کورٹ میں کیویٹ پٹیشن دائر کر کے ایک اہم قانونی قدم اٹھایا ہے۔ اس کے بعد کیویٹ پٹیشن کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیویٹ پٹیشن کیا ہوتی ہے اور یہ ممتا حکومت کے لیے کس طرح فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
کیویٹ پٹیشن کیا ہے؟
کیویٹ ایک لاطینی لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’’خبردار‘‘۔ کیویٹ پٹیشن سیول پروسیجر کوڈ (CPC) کی دفعہ 148A کے تحت دائر کی جاتی ہے اور یہ 90 دن تک مؤثر رہتی ہے۔ کیویٹ پٹیشن ایک قانونی طریقہ ہے جس کے ذریعے کوئی فریق عدالت سے پہلے ہی یہ درخواست کرتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی عبوری حکم (جیسے اسٹے آرڈر) جاری کرنے سے قبل اسے مطلع کیا جائے اور اس کا موقف سنا جائے، تاکہ یکطرفہ فیصلہ نہ ہو سکے۔
ممتا حکومت کی سپریم کورٹ میں درخواست
مغربی بنگال حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی کیویٹ پٹیشن میں مطالبہ کیا ہے کہ اگر ای ڈی، I-PAC چھاپہ مار معاملے میں ریاستی حکومت کے خلاف کوئی عرضی دائر کرے تو عدالت ریاست کا موقف سنے بغیر کوئی یکطرفہ فیصلہ نہ دے۔
مکمل معاملہ کیا ہے؟
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعرات (8 جنوری) کو کولکاتا میں منی لانڈرنگ کے ایک معاملے کے سلسلے میں سیاسی مشاورتی ادارے I-PAC کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ای ڈی نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی خود موقع پر پہنچیں اور کچھ اہم دستاویزات لے کر I-PAC کے دفتر سے روانہ ہو گئیں۔
معاملہ ہائی کورٹ تک کیسے پہنچا؟
یہ معاملہ کولکاتا ہائی کورٹ تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ای ڈی نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ یہ چھاپے بنگال کوئلہ کان کنی گھوٹالے سے جڑے ہوئے تھے اور ممتا بنرجی پر سرکاری جانچ میں ’’رکاوٹ ڈالنے‘‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے ہائی کورٹ سے ای ڈی کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے اور پارٹی کے تمام خفیہ دستاویزات فوری طور پر واپس کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔
ہائی کورٹ میں ہنگامہ
جمعہ (9 جنوری) کو ترنمول کانگریس اور ای ڈی سے متعلق اس معاملے کی سماعت کے دوران عدالت میں غیر معمولی بھیڑ جمع ہو گئی، جس کے باعث بد نظمی پیدا ہو گئی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی۔ جسٹس سورا گھوش نے کیس سے غیر متعلق افراد کو عدالت سے باہر جانے کی ہدایت دی، تاہم عدالت وکلا سے بھری رہی۔ بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر جج نے ہنگامے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سماعت کیے بغیر ہی کورٹ روم چھوڑ دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


