Bharat Express DD Free Dish

Violent clash in Giridih: گریڈیہ میں کارتک پورنیما کے جلوس کے دوران دو گروپوں میں پرتشدد تصادم، 20 سے زائد زخمی، بھاری پولیس فورس تعینات

پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں زخمی افراد کا علاج مقامی ہیلتھ سینٹروں میں کیا جا رہا ہے، جبکہ شدید زخمیوں کو گریڈیہ صدر اسپتال بھیجا گیا ہے۔ گاؤں میں احتیاط کے طور پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور انتظامیہ لگاتار حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

گریڈیہ میں دو گروپوں میں پرتشدد تصادم۔

گریڈیہ: جھارکھنڈ کے گریڈیہ ضلع کے تاراٹانڈ تھانہ علاقے میں بدھ کے روز کارتک پورنیما کے موقع پر نکالی جا رہی شوبھا یاترا کے دوران دو فریقوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہو گئی۔ معمولی تنازعہ نے دیکھتے ہی دیکھتے شدید شکل اختیار کر لی اور دونوں جانب سے زبردست پتھراؤ اور لاٹھی ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا۔ اس واقعے میں 20 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

کچھ لوگوں کے ویڈیو بنانے کی بات پر تنازعہ

کہا جا رہا ہے کہ جھگڑے کی شروعات منگل کی شام تُلسِی بیاہ کے دوران نکالی گئی بارات سے ہوئی تھی۔ بدھ کی صبح جب شوبھا یاترا کالی مندر کے قریب پہنچی تو دوسرے فریق کے لوگوں نے مبینہ طور پر جلوس کو روکنے کی کوشش کی۔ اس پر اعتراض کیے جانے کے بعد دونوں جانب بحث تیز ہو گئی، اور کچھ لوگوں کے ویڈیو بنانے کی بات پر تنازعہ مزید بڑھ گیا۔

پتھراؤ سے پورے گاؤں میں مچ گئی افراتفری

تھوڑی ہی دیر میں دونوں طرف سے پتھراؤ شروع ہو گیا، جس سے پورے گاؤں میں افراتفری مچ گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تاراٹانڈ تھانہ پولیس موقع پر پہنچی، لیکن حالات بگڑنے پر گانڈے، اہلیاپور اور دیگر تھانوں سے بھی اضافی پولیس فورس طلب کرنی پڑی۔ موقع پر ڈپٹی کمشنر رامنیواس یادو، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر بمل کمار اور ایس ڈی پی او جِتواہن اُراؤں پہنچے اور حالات کو قابو میں کرنے میں لگ گئے۔ افسران نے خود مورچہ سنبھال کر ماحول کو پرسکون بنایا۔

شدید زخمیوں کو بھیجا گیا گریڈیہ صدر اسپتال

پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں زخمی افراد کا علاج مقامی ہیلتھ سینٹروں میں کیا جا رہا ہے، جبکہ شدید زخمیوں کو گریڈیہ صدر اسپتال بھیجا گیا ہے۔ گاؤں میں احتیاط کے طور پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور انتظامیہ لگاتار حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

دو افراد کے ذاتی جھگڑے سے شروع ہوا فساد

ایس پی ڈاکٹر بمل کمار نے کہا کہ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے کی شروعات دو افراد کے ذاتی تنازعے سے ہوئی تھی۔ جو بھی لوگ قانون و نظم میں خلل ڈالنے میں ملوث پائے جائیں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال ماحول کشیدہ لیکن مکمل طور پر قابو میں بتائی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read