Bharat Express DD Free Dish

UP Congress President slams Centre: ’’یو جی سی کے ذریعے عوام کو تقسیم کرنے کی سازش‘‘ اترپردیش کانگریس صدر اجے رائے کا مرکز پر سنگین الزام

لکھنؤ: ذات پات کی بنیاد پر امتیاز سے نمٹنے کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ضوابط پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یو جی سی کے ذریعے ملک کے عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ناکامی چھپانے کے لیے تقسیم کی سیاست

اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اجے رائے نے کہا کہ جس طرح ماضی میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہندو-مسلم کا سہارا لیا گیا، اب اسی طرز پر یو جی سی کے ذریعے سماج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’میرا ماننا ہے کہ یہ حکومت اب اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ گجرات کے صنعت کار بڑے کاروبار چلا رہے ہیں اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہندو سماج کے اندر بھی تقسیم پیدا کی جا رہی ہے، لیکن کانگریس پارٹی ایسا ہرگز ہونے نہیں دے گی۔ ہمارے لیے سب ایک ہیں۔ جو نظام ہمارے دور میں تھا، اسے اب مزید مضبوطی کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے۔‘‘

مرکزی وزیر تعلیم کی وضاحت، امتیاز کے خدشات مسترد

یو جی سی کے نئے ضوابط پر اٹھنے والے خدشات کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کے روز وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا کسی بھی صورت میں غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان نے کہا: ’’میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ کوئی امتیاز ہوگا اور نہ ہی کوئی اس قانون کا غلط استعمال کر سکے گا۔‘‘

جنرل زمرے کے طلبا میں بے چینی، تنقید میں اضافہ

واضح رہے کہ یو جی سی نے 13 جنوری 2026 کو ذات پات کی بنیاد پر امتیاز سے متعلق اپنے 2012 کے ضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے نئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ ان ضوابط کے خلاف جنرل کیٹیگری کے طلبہ میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فریم ورک ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا سبب بن سکتا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی کمیٹیوں اور ہیلپ لائنز کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ بالخصوص ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طلبہ کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔ یو جی سی کی پالیسیوں کے خلاف لکھنؤ میں طلبہ نے لکھنؤ یونیورسٹی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ان ضوابط پر نظرثانی کی جائے۔

بی جے پی لیڈر کا استعفیٰ، مودی کو خط

اس معاملے میں سیاسی ہلچل اس وقت مزید بڑھ گئی جب رائے بریلی کے سالون حلقہ سے بی جے پی کسان مورچہ کے نائب صدر شیام سندر ترپاٹھی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر یو جی سی کی نئی پالیسیوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ خط میں کہا گیا: ’’اعلیٰ ذات کے بچوں کے خلاف لائے گئے کالے قانون جیسے ریزرویشن بل کی وجہ سے میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ یہ قانون سماج کے لیے خطرناک اور تقسیم کرنے والا ہے۔ ایسے غیر اخلاقی قانون کی حمایت کرنا میری خودداری اور نظریے کے خلاف ہے۔‘‘

معطل سٹی مجسٹریٹ کا آئینی ناکامی کا الزام

دریں اثنا بریلی کے معطل سٹی مجسٹریٹ النکاراگنی ہوتری نے مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے اتر پردیش میں آئینی نظام کی ناکامی کا الزام لگایا۔ اپنے احتجاج کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھ ریاستوں کی مختلف برہمن سماج سے وابستہ تنظیمیں اور افراد ان کے رابطے میں ہیں اور کئی منتخب نمائندوں نے بھی یو جی سی کے ضوابط کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read