Bharat Express DD Free Dish

Govt’s Attitude Toward Minorities: حکومت اور اقلیتوں کے تعلق پر نئی بحث: اقلیتوں کے بارے میں حکومت کے رویّے اور اس سے پیدا ہونے والی بے چینی تشویش کن

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر، سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی اور ایڈوانسڈ اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ آف ایشیا کے چیئرمین نجيب جنگ نے اپنے ایک مضمون میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ریاست کو اپنے عمل اور پیغام سے واضح کرنا ہوگا کہ مساوات ناقابل گفت و شنید ہے اور اقلیتیں اس ملک کے اخلاقی و تہذیبی وجود کا لازمی حصہ ہیں۔‘‘

تحریر: نجیب جنگ

جمعیۃ علماء ہند کی سالانہ مجلس عاملہ میں کی گئی مولانا محمود مدنی کی حالیہ تقریر نے ایک بار پھر اس دیرینہ بحث کو جنم دیا ہے جو جدید ہندوستانی سیاست کا شاید سب سے زیادہ حساس موضوع ہے یعنی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں حکومت کا رویہ۔ بحث اکثر دو انتہاؤں میں قید ہو جاتی ہے: ایک طرف تہذیبی ہندوتوا کے عروج کا تصور اور دوسری طرف جمہوری و تکثیری ہندوستان کے کمزور پڑنے کا اندیشہ۔ مگر حقیقت ان دونوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ 2014 کے بعد سے ریاست، اکثریت اور اقلیت کے درمیان جو نئی فضا بنی ہے، وہ مکمل طور پر غیر معمولی نہیں، مگر اس کی وضاحت بھی آسان نہیں۔ اس کے پیچھے انتخابی سیاست، نظریاتی ایجنڈا، بدلتا میڈیا منظرنامہ اور شناخت کے حوالے سے سماج میں پیدا بےچینی جیسے عناصر شامل ہیں۔ اس لیے صورت حال کا ٹھوس اور غیر جذباتی تجزیہ ناگزیر ہے۔

آئینی اقدار اور بانیان قوم کی فکر

ہندوستانی جمہوری روایت کے تناظر میں اس سوال کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب سماجی بے اطمینانی بڑھ رہی ہو، تو بھارت کے ابتدائی رہنماؤں کی آوازیں یاد آتی ہیں۔ ان میں مولانا ابوالکلام آزاد کی بصیرت نمایاں ہے جنہوں نے 1949 میں دستور ساز اسمبلی میں کہا تھا کہ ہندوستان ایسی قوم نہیں جو ایک ہی مذہبی شناخت پر قائم ہو بلکہ ’’کئی قومی پہچانوں کا مجموعہ ہے۔‘‘ پنڈت جواہر لال نہرو بھی مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ ہندوستان کو کسی ایک مذہبی طبقے کی برتری سے جوڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ ایسا عمل صدیوں پر محیط تہذیبی ہم آہنگی کو پارہ پارہ کر دے گا۔

اکثریت پسندی کا بڑھتا ہوا بیانیہ

اسی پس منظر میں موجودہ حکومت کا اقلیتوں سے متعلق رویہ زیر بحث آتا ہے۔ آج ریاست کی علامتی زبان اور طرزِ عمل میں اکثریت کی مذہبی شناخت کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ سرکاری سطح پر مذہبی رسومات میں شرکت، تہذیبی بیانیے کا سیاسی زبان بن جانا اور سرکاری تقاریر میں تہذیبی ہندو ورثے کا حوالہ ایک نئے بیانیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے اقلیتوں کے خلاف کوئی امتیازی پالیسی اختیار نہیں کی اور سماجی بہبود کی اسکیمیں جیسے: جن دھن، آیوشمان بھارت، اجولا، اور پی ایم آواس، سبھی کیلئے یکساں ہیں اور یہ بات درست بھی ہے۔ مگر مسئلہ محض فلاحی منصوبوں کا نہیں اعتماد اور شمولیت کا ہے۔

پالیسی اور علامتی اقدامات کے اثرات

اس تناظر میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) ایک اہم موڑ تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ پہلی بار مذہب کو شہریت سے جوڑا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہ آئینی مساوات کی روح سے تضاد رکھتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 370 کا خاتمہ، کشمیر کی ریاستی حیثیت کا بدلنا اور طویل پابندیاں کشمیر میں گہری بےاعتمادی پیدا کر گئیں۔ دوسری طرف معاشرتی فضا میں ہجومی تشدد، مسلم کاروبار کے بائیکاٹ کی اپیلیں، مسیحی عبادتگاہوں کے خلاف مہمات، اور نفرت انگیز تقریریں اقلیتوں کیلئے عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرتی رہی ہیں۔ ریاست کا ردعمل عموماً کمزور، تاخیری یا غیر واضح رہا ہے۔

نمائندگی اور سیاسی شمولیت کا سوال

آج پارلیمنٹ میں برسراقتدار پارٹی کا تقریباً کوئی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں ہے۔ حکومت اسے اہلیت کی بنیاد پر نمائندگی کا اصول قرار دیتی ہے، مگر ناقدین کے مطابق ہندوستان جیسے تکثیریہ سماج میں علامتی نمائندگی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک ایسا طبقہ جس کی تعداد 20 کروڑ سے زیادہ ہو، اگر سیاسی فیصلہ سازی میں نہ دکھائی دے تو یہ سوال لازمی ہے کہ وہ اس نظام کا حصہ ہے یا اس کے کنارے پر۔

مستقبل کا راستہ

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت نے ریاستی صلاحیت میں اضافہ کیا، ترقیاتی رفتار بڑھائی اور بہت سے ہندوستانیوں میں ثقافتی اعتماد بحال کیا۔ مگر تکثیری سماج میں حکومت کا فرض صرف اکثریت کو احساس ملکیت دینا نہیں بلکہ اقلیتوں کو تحفظ اور شمولیت کا احساس دلانا بھی ہے۔ اگر یہ توازن کمزور پڑتا رہا تو مستقبل میں ہندوستان کا سماجی معاہدہ خاموشی سے، آہستہ آہستہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

ہندوستان بہت وسیع، متنوع اور تہذیبی طور پر مضبوط ملک ہے۔ اسے کسی ایک بیانیے میں سمونا ممکن نہیں۔ دستور اب بھی ایک مضبوط حوالہ ہے، عدالتیں وقتاً فوقتاً اپنی آزادی کا ثبوت دیتی رہی ہیں، اور سول سوسائٹی کی آواز مکمل طور پر خاموش نہیں ہوئی۔ آگے کا راستہ الزام تراشی نہیں بلکہ آئینی اصولوں کی بحالی ہے جہاں مساوات غیر مشروط ہو، نفرت انگیزی سزاوار ہو، اور سیاست شناخت کا نہیں، شہری حقوق کا مسئلہ ہو۔ فیصلہ یہی ہے کہ ہندوستان اتحاد اور بھائی چارے کی راہ اختیار کرے گا یا تقسیم اور خوف کے بیانیے کو معمول بننے دے گا۔ یہی انتخاب آنے والی نسلوں اور جمہوریہ کے مستقبل کو طے کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read