نئی دہلی: نیٹ امتحان کو لے کر تنازعات اور بے ضابطگیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اب مہاراشٹر کے ناگپور سے ایک ایسا حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جس نے طلبہ اور والدین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والے ایک طالب علم نے جب اپنا ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ کیا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ طالب علم ناگپور میں رہتا ہے، لیکن نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے اس کا امتحان کا سینٹر ہزاروں کلومیٹر دور دبئی میں تھا۔
صرف دو دن باقی، امتحانی مرکز دبئی میں
طالب علم نے پورا سال سخت محنت کے ساتھ نیٹ امتحان کی تیاری کی تھی، لیکن ایڈمٹ کارڈ ملتے ہی اس کے خاندان پر پریشانیوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ امتحان شروع ہونے میں صرف دو دن باقی ہیں اور ایسے میں ایک متوسط طبقے کے طالب علم کے لیے اچانک دبئی جا کر امتحان دینا تقریباً ناممکن ہے۔خاندان کو خدشہ ہے کہ کہیں کسی معمولی ٹائپنگ غلطی یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے ان کے بیٹے کی ایک سال کی محنت اورڈاکٹر بننے کا خواب برباد نہ ہو جائے۔
حکام سے فریاد، ای میل کے ذریعے شکایت درج کرانے کی ہدایت
ابتدائی صدمے سے نکلنے کے بعد خاندان نے فوری طور پر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) اور متعلقہ امتحانی حکام سے رابطہ کیا۔ متعدد فون کالز اور مسلسل کوششوں کے بعد حکام نے معاملے کا نوٹس لیا۔ذرائع کے مطابق، حکام نے خاندان کو ای میل کے ذریعے تحریری شکایت درج کرانے کی ہدایت دی ہے اور ایڈمٹ کارڈ میں جلد از جلد ضروری اصلاحات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
نظام پر پھر اٹھے سنگین سوالات
اگرچہ حکام کی مداخلت کے بعد خاندان کو کچھ راحت ملی ہے، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر امتحانی نظام کی شفافیت اورکارکردگی پرسوالیہ نشان لگا دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ملک کے سب سے اہم اور حساس میڈیکل داخلہ امتحان میں اتنی بڑی غلطی آخر کیسے ہو سکتی ہے؟ کیا ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے سے پہلے معلومات کی مناسب جانچ نہیں کی جاتی؟اس واقعے کے بعد طلبہ اور والدین میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نیٹ جیسے اہم امتحان کے ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے سے قبل تمام تفصیلات کی سختی سے جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی طالب علم کا مستقبل اس طرح خطرے میں نہ پڑے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


