عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ ترکمان گیٹ کے علاقے میں فیض الہی مسجد کے قریب میونسپل کارپوریشن دہلی (ایم سی ڈی) کی جانب سے کی گئی انہدامی کارروائی غیر قانونی ہے اور یہ زمین وقف کی ملکیت ہے۔
وقف اراضی پر انہدام کا الزام
امانت اللہ خان نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ زمین ’’123 وقف پراپرٹی‘‘ کا حصہ ہے اور اس پر کی گئی کارروائی قانون کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق اس وقف اراضی میں شادی ہال، ڈسپنسری، مسجد سے متصل زمین اور قبرستان کی زمین شامل ہے، جہاں سے عوام کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے دہلی اور پورے ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسے ہندو مسلم سیاست سے جوڑا۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے کا دعویٰ
امانت اللہ خان نے کہا کہ وقف جائیدادوں کو نشانہ بنا کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہدام کے بعد پتھراؤ، آنسو گیس کے گولے، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑا گیا۔
کانگریس کا ردعمل
دوسری جانب کانگریس رہنما سندیپ دکشت نے ترکمان گیٹ کے قریب ایم سی ڈی کی کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر غیر قانونی تعمیرات ہٹائی جا رہی ہیں تو یہ ایک اچھا قدم ہے۔ تاہم انہوں نے بی جے پی حکومت پر ایک خاص مذہب کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اہلکاروں کے خلاف تشدد کسی بھی صورت درست نہیں کیونکہ وہ عدالت یا ایم سی ڈی کے احکامات پر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔
پولیس کارروائی اور حالات پر قابو
دہلی پولیس کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم پر 7 جنوری 2026 کی صبح سویرے فیض الہی مسجد، ترکمان گیٹ اور رام لیلا میدان کے قریب تجاوزات کے خلاف انہدامی کارروائی کی گئی۔ اس دوران 25 سے 30 افراد نے پولیس اور ایم سی ڈی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ انہیں قریبی اسپتال میں علاج فراہم کیا گیا۔
احتیاطی اقدامات اور گرفتاری
پولیس حکام نے بتایا کہ کارروائی سے قبل امن برقرار رکھنے کے لیے امن کمیٹی اور مقامی نمائندوں کے ساتھ متعدد میٹنگیں ہوئیں اور تمام ممکنہ احتیاطی اقدامات اختیار کیے گئے۔ اس کے باوجود چند شرپسند عناصر نے حالات خراب کرنے کی کوشش کی، جسے محدود اور متناسب طاقت کے استعمال سے قابو میں کر لیا گیا۔ پولیس نے پتھراؤ کے سلسلے میں پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


