جھالاواڑ: راجستھان کے ضلع جھالاواڑ کے منوہر تھانہ بلاک کے پیپلودی گاؤں میں جمعہ کی صبح ایک سرکاری پرائمری اسکول کی چھت گرنے کا اندوہناک واقعہ پیش آیا، جس میں کم از کم 7 بچوں کی موت ہو گئی، جب کہ درجنوں کے زخمی یا ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ حادثے کے وقت کمرے میں تقریباً 60 بچے موجود تھے۔
#WATCH | Seven students have died in a school roof collapse in Rajasthan’s Jhalawar
A student’s father says, “My child is admitted to the ICU ward in the hospital.” pic.twitter.com/Pe4JBVUGSv
— ANI (@ANI) July 25, 2025
بچوں کو بچانے کی سبھی ممکنہ کوششیں جاری
مقامی افراد نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر بچوں کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں، جب کہ انتظامیہ نے فوری طور پر 4 جے سی بی مشینیں ملبہ ہٹانے کے لیے روانہ کیں۔ اب تک 8 بچوں کو زندہ ملبے سے نکال کر اسپتال میں داخل کرایا جا چکا ہے۔ شدید زخمیوں کو جھالاواڑ کے ضلعی اسپتال میں ریفر کیا گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، اسکول کی عمارت خستہ حال اور پرانی تھی، جس کی مرمت کے لیے بارہا شکایتیں درج کرائی گئیں، لیکن انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا گیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
VIDEO | Jhalawar, Rajasthan: Roof of Piplodi Primary School collapses, several children feared trapped. Rescue operations underway.#RajasthanNews #Jhalawar
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/K0STKQwP0A
— Press Trust of India (@PTI_News) July 25, 2025
لاپروائی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی
اسکول کی چھت گرنے کے سانحے پر راجستھان کے وزیر تعلیم مدن دلاؤر نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر نے ضلع کلکٹر سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور ریسکیو آپریشن میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے۔ مدن دلاؤر نے کہا کہ متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ اس حادثے کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے گی اور جو بھی ذمہ دار پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسی لاپروائی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تعلیم محکمہ بچوں کی سلامتی کے تئیں پوری طرح سے پرعزم ہے۔
ریسکیو آپریشن جاری
پولیس، مقامی انتظامیہ اور طبی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔ ضلع کلکٹر بھی جائے وقوعہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ پورے علاقے میں افسوس، غم اور بے بسی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف سرکاری نظام کی لاپروائی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ بچوں کی حفاظت کے تئیں ہمارے رویے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
راجستھان میں یہ تیسرا افسوسناک واقعہ
راجستھان میں اسکول انفراسٹرکچر کی بگڑتی حالت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کیونکہ فروری 2025 میں بی کانیر میں پانی کی ٹنکی کی چھت گرنے سے 3 بچوں کی موت ہو گئی تھی۔ باڑمیر کے چوہٹن میں اسکول کی دیوار گرنے سے ایک بچے کی موت ہوئی۔ یہ سلسلہ نہ صرف سرکاری لاپروائی کو بے نقاب کرتا ہے، بلکہ بچوں کی حفاظت کے تئیں عدم سنجیدگی پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔ ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنان کا مطالبہ ہے کہ اسکولوں کی حالت زار پر فوری توجہ دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے حادثات کو روکا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


