رائے پور: چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک نجی اسپتال کے سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران زہریلی گیس کی زد میں آ کر تین افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ منگل کی دیر شام پچپیڑی ناکا علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، تینوں افراد اسپتال کے احاطے میں صفائی کے کام میں مصروف تھے۔ اسی دوران وہ اچانک سیپٹک ٹینک کے اندر موجود خطرناک گیس کی لپیٹ میں آ گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر آکسیجن کی شدید کمی اور زہریلی گیسوں کی زیادتی کے باعث ان کا دم گھٹ گیا، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔
ریسکیو آپریشن میں مشکلات
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ تاہم، ٹینک کے اندر زہریلی گیس کی موجودگی کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو اہلکاروں نے خصوصی حفاظتی آلات کا استعمال کرتے ہوئے بڑی احتیاط کے ساتھ لاشوں کو باہر نکالا۔ عینی شاہدین کے مطابق، واقعہ انتہائی اچانک پیش آیا اور مزدوروں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی ٹیموں کو اطلاع دی، جس کے بعد کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
پولیس اور انتظامیہ کی کارروائی
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ معاملہ زہریلی گیس کے باعث دم گھٹنے کا معلوم ہوتا ہے، تاہم اصل وجہ کی تصدیق مکمل تحقیقات کے بعد ہی کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا صفائی کے دوران ضروری حفاظتی اصولوں پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔ مقامی انتظامیہ نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حفاظتی اقدامات پر سوالات
اس افسوسناک واقعے کے بعد ایک بار پھر سیفٹی معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیپٹک ٹینک یا بند جگہوں میں صفائی کے دوران مناسب تربیت اور حفاظتی سازوسامان فراہم کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مقامات پر کام کرنے والے مزدوروں کو ماسک، آکسیجن سپورٹ اور دیگر حفاظتی آلات کے بغیر کام پر لگانا سنگین غفلت ہے۔ چھوٹی سی لاپروائی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، جیسا کہ اس واقعے میں دیکھنے کو ملا۔ یہ حادثہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے بلکہ متعلقہ اداروں کے لیے بھی ایک سنجیدہ وارننگ ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



