نئی دہلی: فروری 2024 میں شروع کی گئی پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم سے اب تک ملک بھر میں 26 لاکھ سے زائد خاندانوں کو فائدہ پہنچ چکا ہے۔ یہ جانکاری وزارتِ نوین و قابلِ تجدید توانائی کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں دی گئی۔ وزارت کے مطابق، اسکیم کے آغاز کے بعد سے پورے ملک میں کل 20,85,514 روف ٹاپ سولر سسٹم (RTS) نصب کیے جا چکے ہیں، جس سے 26,14,446 خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ اس دوران دسمبر 2025 تک مرکزی مالی امداد (CFA) کے طور پر 14,771.82 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ گجرات کو ہوا ہے، جہاں 7,41,819 خاندانوں نے اس سے استفادہ کیا۔ مہاراشٹر میں 6,34,782 خاندان دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ اتر پردیش میں 3,29,847 خاندان اس اسکیم سے مستفید ہوئے۔
85,800 روپے تک سبسڈی، متوسط طبقے کو بڑا فائدہ
اس اسکیم کے تحت صارفین 85,800 روپے تک کی سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے روف ٹاپ سولر سسٹم لگانا مالی طور پر آسان اور فائدہ مند ہو جاتا ہے، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے۔ توانائی ماہرین کے مطابق، ایک کلوواٹ کا سولر پلانٹ ماہانہ اوسطاً 100 یونٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے، جو ایک عام گھر کی ماہانہ بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ میں بھی اہم کردار
وزارت نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت ایک کروڑ گھروں میں سولر سسٹم لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس سے 1000 بلین یونٹ قابلِ تجدید توانائی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، روف ٹاپ سولر نظام کی 25 سالہ مدت کے دوران 720 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کے مساوی اخراج میں کمی متوقع ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کی سمت ایک بڑا قدم ہوگا۔ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم طلب پر مبنی اسکیم ہے، جس کے تحت وہ تمام گھریلو صارفین جن کے پاس مقامی ڈسکام کے گرڈ سے جڑا بجلی کنکشن ہے، قومی پورٹل پر درخواست دے کر روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کرا سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

