Bharat Express DD Free Dish

Dharmasthal began to spill bloody secrets: دھرم استھل کی زمین میں کتنے راز؟ اجتماعی قبریں، انسانی باقیات اور نمک کی بوریاں برآمد، ایس آئی ٹی نے سنبھالی کمان، اجتماعی قبروں کی کھدائی میں لرزہ خیز انکشافات

جیسے جیسے کھدائی اور جانچ آگے بڑھ رہی ہے مزید راز سامنے آنے کی توقع ہے۔ سچ کی پرتیں ابھی باقی ہیں اور ایس آئی ٹی ہر زاویے سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

کرناٹک کے ضلع جنوبی کنڑا کے مشہور ہندو مذہبی مقام دھرم استھل میں اجتماعی تدفین کے انکشاف نے ریاست اور ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں، کھوپڑیاں اور نمک سے بھری بوریاں برآمد ہوئیں۔ شبہ ہے کہ نمک لاشوں کو جلد سڑانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

معاملہ ایس آئی ٹی کے حوالے، تفتیش جاری

یہ معاملہ اب مکمل طور پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر پرنب مہانتی، ڈی آئی جی انوچیتھ اور ایس پی سی اے سائمن خود اس ہائی پروفائل کیس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پولیس نے جرم نمبر 39/2025 کو بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 211(اے) کے تحت 19 جولائی کو درج کیا تھا۔

مقامات کی نشاندہی شکایت کنندہ نے خود کی

اس سنسنی خیز معاملے کا رخ اس وقت بدلا جب شکایت کنندہ نے خود ایس آئی ٹی کو بتایا کہ اس نے 1995 سے 2014 کے درمیان کئی لاشیں دفن ہوتے دیکھی تھیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں میں خواتین، بچے اور جنسی زیادتی کے شکار لوگ بھی شامل تھے۔ شکایت کنندہ نے اپنا بیان مجسٹریٹ کے سامنے بھی درج کرایا ہے۔

کھدائی میں مسلسل انسانی باقیات کی برآمدگی

6 اگست کو مقام نمبر 11 اے سے انسانی ہڈیاں اور دیگر باقیات نکلیں۔ اس کے اگلے دن مزید کھدائی پر نمک کی بوریاں سامنے آئیں۔ 31 جولائی اور 4 اگست کو دیگر مقامات سے بھی انسانی ڈھانچے ملے۔ نئے مقدمات UDR نمبر 35/2025 اور 36/2025 کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ 4 اگست کو درج کی گئی نئی شکایت (نمبر 200/ڈی پی ایس/2025) بھی ایس آئی ٹی کو دی گئی ہے۔

تفتیش میں فرانزک ٹیموں کی شمولیت

مقامات پر بھاری مشینری، مزدور اور فرانزک ماہرین تعینات کیے گئے ہیں جو ہر پہلو سے جانچ کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی مقامات نہایت حساس ہیں اور ایس آئی ٹی کی کارروائی احتیاط سے کی جا رہی ہے۔

دھرم استھل میں بڑھتی کشیدگی، پولیس الرٹ پر

دھرم استھل گاؤں میں ماحول کشیدہ ہے۔ مندر انتظامیہ کے حامیوں اور مظاہرین کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔ ایک یوٹیوبر کے متاثرہ خاندان کے گھر جانے پر حالات مزید بگڑ گئے۔ پولیس علاقے میں الرٹ ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری میں ہے۔

تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان

جیسے جیسے کھدائی اور جانچ آگے بڑھ رہی ہے مزید راز سامنے آنے کی توقع ہے۔ سچ کی پرتیں ابھی باقی ہیں اور ایس آئی ٹی ہر زاویے سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read