جہاں مقامی کوئلہ دستیاب، وہاں درآمد کی ضرورت نہیں
سابق وزیرِ کوئلہ کے طور پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایسے کوئلے کی درآمد کم ہوئی ہے جسے ملکی وسائل سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ مخصوص پاور پلانٹس اور میٹل انڈسٹری کے لیے اب بھی کوئلے کی درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھارتی کوئلہ استعمال ہو رہا ہے وہاں درآمد کی ضرورت نہیں پڑ رہی۔
’یوٹیلیٹی لیڈ ماڈل‘ کے ذریعے توانائی کے شعبے کو فروغ
مرکزی وزیر نے بتایا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور حکومت 2027 تک مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کافی صلاحیت قائم کی جا چکی ہے، لیکن آگے بھی کافی کام باقی ہے جسے ‘یوٹیلیٹی لیڈ ماڈل’ کے ذریعے مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے شمسی توانائی اور گرین انرجی کے شعبے میں شاندار کام کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک نے اس میدان میں تیزی سے ترقی کی ہے اور آئندہ بھی کئی بڑے منصوبوں پر کام جاری رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

