’یار، آج موسم بہت گرم ہے!‘ یا ’اس بار تو سردی وقت پر آئی ہی نہیں۔‘ ایسے جملے آج کل ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم اکثر صبح اٹھ کر فون پر موسم کی رپورٹ دیکھتے ہیں اور اگر کل کے مقابلے میں درجہ حرارت 1 ڈگری اوپر یا نیچے ہو جائے تو ہمیں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن جب سائنس دان یہی کہتے ہیں کہ پوری دنیا کا اوسط درجہ حرارت ’1 ڈگری‘ بڑھ گیا ہے تو ان کے ماتھے پر تشویش کی لکیریں اُبھر آتی ہیں۔
شاید سننے میں 1 ڈگری بہت معمولی تبدیلی لگے، لیکن عالمی سطح پر یہی 1 ڈگری انسانی طرزِ زندگی، زراعت، سمندروں اور آنے والے مستقبل کو تہس نہس کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ آخر گلوبل وارمنگ، ‘موسمیاتی تبدیلی’ اور ‘موسم’ میں کیا فرق ہے اور یہ 1 ڈگری کا حساب اتنا خوفناک کیوں مانا جاتا ہے۔
تینوں میں کیا فرق ہے؟
دراصل موسم انسان کے موڈ کی طرح ہوتا ہے، جو ہر لمحہ بدلتا رہتا ہے۔ صبح تیز دھوپ تھی، دوپہر میں اچانک کالے بادل چھا گئے اور بارش شروع ہوگئی، یہی موسم ہے۔ موسم کسی خاص جگہ کے چند گھنٹوں یا چند دنوں کے حالات کو ظاہر کرتا ہے۔
‘1 ڈگری’ درجہ حرارت بڑھنے سے خطرہ کیوں؟
صبح کے وقت درجہ حرارت 25 ڈگری ہوتا ہے اور دوپہر تک 38 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ ہماری جسمانی قوت ایک ہی دن میں 13-14 ڈگری کے فرق کو برداشت کر لیتی ہے، تو پھر پوری زمین کا درجہ حرارت صرف 1 ڈگری بڑھنے پر اتنی فکر کیوں کی جاتی ہے؟سائنس دانوں کے مطابق مقامی سطح پر درجہ حرارت کا بدلنا معمول کی بات ہے، لیکن پوری زمین کے اوسط درجہ حرارت میں 1 ڈگری اضافہ کرنے کے لیے اتنی توانائی درکار ہوتی ہے جتنی کروڑوں ایٹمی بم پھٹنے سے پیدا ہوگی۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا (NASA) کے اعداد و شمار کے مطابق سال 1880 کے بعد سے اب تک زمین کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 0.8 ڈگری سیلسیس بڑھ چکا ہے، اور اس میں سب سے زیادہ اضافہ 1975 کے بعد ہوا، جب انسانوں نے مشینوں کا استعمال بہت زیادہ بڑھا دیا۔
جب پوری زمین کا درجہ حرارت 1 ڈگری بڑھتا ہے تو سمندر کا پانی گرم ہو کر پھیلنے لگتا ہے، جس سے ساحلی شہروں کے ڈوبنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بارش کا نظام مکمل طور پر متاثر ہو جاتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان کسانوں کو ہوتا ہے کیونکہ اس سے فصلوں کا پورا سیزن برباد ہو سکتا ہے۔
سورج کی توانائی اور ہمارا مستقبل
زمین سورج سے توانائی حاصل کرتی ہے اور ایک طے شدہ مقدار میں اسے واپس خلا میں بھیج دیتی ہے۔ لیکن انسانوں کی پیدا کردہ آلودگی اس توانائی کو روک لیتی ہے۔ سال 1951 سے 1980 کے درمیان دنیا کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 14 ڈگری سیلسیس تھا، مگر اب یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر انسانوں کی طرزِ زندگی میں تبدیلی نہ آئی تو بڑھتا ہوا یہ درجہ حرارت آنے والے وقت میں زندگی کا پورا نظام بدل کر رکھ دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


