Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak Case: سپریم کورٹ میں نیٹ پیپر لیک معاملے کی سماعت، عدالت نے کہا: جوابدہی طے ہونا ضروری

سپریم کورٹ نے وزارت تعلیم کو ہدایت دی کہ وہ ایک حلف نامہ داخل کرے، جس میں واضح کیا جائے کہ مستقبل میں امتحانی عمل اور نتائج کے نظام کو کس طرح بہتر بنایا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ یہ حلف نامہ جولائی کے دوسرے ہفتے تک داخل کیا جائے۔

نئی دہلی: نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے پر جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حقیقی جوابدہی طے نہیں کی جائے گی، تب تک نظام میں بہتری ممکن نہیں ہے۔ یہ سماعت جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی بنچ نے کی۔ عرضیوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نیٹ امتحان دوبارہ کرانے کے لیے ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی جائے اور امتحان سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں منعقد کیا جائے۔

سالیسٹر جنرل نے عدالت کو دی جانکاری

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ سابق اسرو چیئرمین کے رادھا کرشنن کی قیادت والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور امتحانی نظام کو مزید محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے ایک نیا میکانزم تیار کیا گیا ہے، جس کی نگرانی اعلیٰ سطح پر کی جا رہی ہے۔

این ٹی اے کو مضبوط بنانے کی سفارش

سابق اسرو چیئرمین کے رادھا کرشنن نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو مزید مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی تھی اور اس سمت میں کئی اصلاحات نافذ بھی کی گئی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ منعقد ہونے والے نیٹ امتحانات کے لیے تمام تجاویز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی سخت ریمارکس

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ذمہ داری صرف افراد کی نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی طے ہونی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) جیسے اداروں میں اس قسم کی صورتحال پیدا نہیں ہوتی، اس لیے دیگر اداروں کو وہاں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

وزارت تعلیم کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے وزارت تعلیم کو ہدایت دی کہ وہ ایک حلف نامہ داخل کرے، جس میں واضح کیا جائے کہ مستقبل میں امتحانی عمل اور نتائج کے نظام کو کس طرح بہتر بنایا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ یہ حلف نامہ جولائی کے دوسرے ہفتے تک داخل کیا جائے۔

این ٹی اے نے امتحان منسوخ کرنے کا کیا دفاع

قابل ذکر ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ نیٹ 2026 امتحان کو منسوخ کرنے اور دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ ’طلبہ کے مفاد‘ اور قومی امتحانی نظام پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے لیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں این ٹی اے نے کہا کہ 3 مئی کو منعقد ہونے والے امتحان کو منسوخ کرنا اور معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایجنسی امتحان کی شفافیت کو لے کر کتنی سنجیدہ ہے۔

ہائی پاور کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد

این ٹی اے نے کہا کہ یہ فیصلہ طلبہ کے مفاد اور قومی امتحانی نظام کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔ یہ حلف نامہ سپریم کورٹ کے 25 مئی کے حکم کے مطابق داخل کیا گیا، جس میں این ٹی اے سے پوچھا گیا تھا کہ ہائی پاور کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی کیا صورتحال ہے۔ واضح رہے کہ نیٹ 2024 امتحان تنازع کے بعد سابق اسرو سربراہ کے رادھا کرشنن کی صدارت میں اس ہائی پاور کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read