نئی دہلی: جیل میں بند ملزم سکیش چندر شیکھر نے 200 کروڑ روپے کے وصولی (Extortion) کیس میں شکایت کنندہ ادیتی سنگھ کو 217 کروڑ روپے ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما کے سامنے ایک عرضی داخل کی ہے۔ یہ عرضی ان کے وکیل اننت ملک کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پیشکش ’’کسی حق یا مؤقف کو متاثر کیے بغیر‘‘ (without prejudice) کی جا رہی ہے اور اسے جرم کا اعتراف تصور نہ کیا جائے۔ اس معاملے پر عدالت میں سماعت 3 جنوری 2026 کو متوقع ہے۔
عدالتی تحویل میں ہے سکیش چندر شیکھر
عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ لودھی کالونی، نئی دہلی کی اسپیشل سیل میں درج ایف آئی آر سے متعلق فریقین کو باہمی تصفیے کے امکانات پر غور کرنے کی اجازت دی جائے۔ سکیش چندر شیکھر اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ شکایت کنندہ کو نوٹس جاری کیا جائے اور یہ ریکارڈ میں درج کیا جائے کہ تصفیے کی یہ پیشکش نیک نیتی پر مبنی ہے اور شکایت کنندہ کی رضامندی سے مشروط ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
دہلی پولیس کے مطابق سکیش چندر شیکھر پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق رنبیکسی پروموٹرز شیویندر سنگھ اور ملویندر سنگھ کی بیویوں سے مبینہ طور پر 200 کروڑ کی دھوکہ دہی اور وصولی کی۔ اس کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں متعدد تحقیقات جاری ہیں۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں سوکیش چندر شیکھر اور ان کے ساتھی اے پاولوس کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت بھی کارروائی جاری ہے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) اس معاملے کی جانچ کر رہا ہے۔
تصفیے کی عرضی پر کوئی فیصلہ نہیں
پولیس نے اس کیس میں مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (MCOCA) بھی نافذ کیا ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق ملزمان نے حوالہ نیٹ ورک اور شیل کمپنیوں کے ذریعے مبینہ طور پر جرم کی رقم کو چھپایا اور مختلف سطحوں پر منتقل کیا۔ فی الحال عدالت نے تصفیے کی عرضی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

