Bharat Express DD Free Dish

Global AI Commons initiative: انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ’گلوبل اے آئی کامنز‘ پر زور، وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی پیش رفت کا اعتراف

ماہرین کے مطابق، اگر ’’گلوبل اے آئی کامنز‘‘ جیسے اقدامات کو عملی شکل دی جاتی ہے تو بھارت نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ عالمی جنوبی ممالک کے لیے بھی ایک ماڈل پیش کر سکتا ہے۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران ہونے والی گفتگو اور شراکت داریوں پر عالمی برادری کی نظر ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی معیشت اور عالمی طاقت کے توازن میں کلیدی کردار ادا کرنے جا رہی ہے۔

نئی دہلی: بھارت میں منعقد ہونے والی انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے موقع پر عالمی ماہرین کی توجہ ایک بار پھر ملک کی ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی کی جانب مبذول ہو گئی ہے۔ معروف ماہر معاشیات Steve Hanke نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس ہفتے ہونے والی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں بھارت اپنے ’’گلوبل اے آئی کامنز‘‘ اقدام کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہر Yann LeCun بھی کھلی اور اشتراکی اے آئی کے حامی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ’’بھارت کا اس میدان میں اہم کردار ہے۔‘‘ اسٹیو ہینکے نے اپنے بیان میں وزیر اعظم Narendra Modi کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی بھارت کو درست سمت میں لے جا رہے ہیں۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کیا ہے؟

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے میدان میں تعاون، اختراع اور پالیسی سازی کو فروغ دینا ہے۔ اس سمٹ میں دنیا بھر سے ماہرینِ ٹیکنالوجی، پالیسی ساز، صنعت کار اور تعلیمی اداروں کے نمائندے شرکت کرتے ہیں۔ سمٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سماجی بہبود، صحت، تعلیم، زراعت اور گورننس کے شعبوں میں بھی مؤثر طور پر استعمال کیا جائے۔ بھارت گزشتہ چند برسوں سے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، ڈیٹا شیئرنگ اور اوپن سورس ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور دے رہا ہے، جسے اب ’’گلوبل اے آئی کامنز‘‘ جیسے اقدامات کے ذریعے عالمی سطح تک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

’گلوبل اے آئی کامنز‘ کیا ہے؟

بھارت کا ’’گلوبل اے آئی کامنز‘‘ تصور اس بات پر مبنی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی محدود کارپوریٹ مفادات تک محدود نہ رہے بلکہ اسے عالمی بھلائی کے لیے ایک مشترکہ اثاثہ بنایا جائے۔ اس ماڈل کے تحت ڈیٹا سیٹس، تحقیق اور اے آئی ٹولز کو کھلے اور شفاف انداز میں شیئر کرنے کی وکالت کی جاتی ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یان لیکون جیسے عالمی سطح کے اے آئی ماہر کی حمایت اس پہل کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ وہ اوپن سورس اور اشتراکی تحقیق کے بڑے حامی مانے جاتے ہیں اور ان کا بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت عالمی اے آئی منظرنامے میں ایک فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔

مودی حکومت کی ڈیجیٹل حکمت عملی

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے گزشتہ ایک دہائی میں ڈیجیٹلائزیشن، اسٹارٹ اپ کلچر اور ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا اور بھارت کی ڈیجیٹل پبلک گڈز پالیسی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر ’’گلوبل اے آئی کامنز‘‘ جیسے اقدامات کو عملی شکل دی جاتی ہے تو بھارت نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ عالمی جنوبی ممالک کے لیے بھی ایک ماڈل پیش کر سکتا ہے۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران ہونے والی گفتگو اور شراکت داریوں پر عالمی برادری کی نظر ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی معیشت اور عالمی طاقت کے توازن میں کلیدی کردار ادا کرنے جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read