Bharat Express DD Free Dish

Baba Neem Karoli miracles: شیخ مجیب الرحمن آگے چل کر اپنےملک کےسب سے بڑا حکمراں بنے گا، 1971 کی جنگ میں بابا نیم کرولی کی پیش گوئی

تاریخی ریکارڈ کے مطابق 25 مارچ 1971 کی فوجی کارروائی کے بعد عوامی لیگ کے لیڈرشیخ مجیب الرحمن کو پاکستانی فوج نے گرفتار کر لیا تھا اور انہیں مغربی پاکستان کی میانوالی جیل میں رکھا گیا تھا۔ اس وقت انہیں سزائے موت سنائی جا چکی تھی، جس کے باعث ان کے اہل خانہ اور حامی شدید پریشانی اور غم میں مبتلا تھے۔

نئی دہلی : ان دنوں بابا نیم کرولی پر بننے والی فلم ’ہنومان انش‘ کا چرچا ہے۔ ایسے میں ان سے جڑی کئی کہانیاں بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ روحانیت، کرشمات اور مستقبل کے واقعات کے اشارے دینے والے بابا نیم کرولی کی زندگی سے وابستہ کئی ایسے واقعات ہیں جو آج بھی لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ 1971 کی جنگ کے دور سے متعلق ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس دوران بابا کی ایک پیش گوئی نے بنگلہ دیش کی تقدیر بدلنے کی کہانی کو جنم دیا۔1971 کا وہ دور، جب مشرقی پاکستان میں آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی اور پورا جنوبی ایشیا ایک تاریخی ہلچل سے گزر رہا تھا، بابا نیم کرولی سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سامنے آیا تھا، جسے آج بھی ان کے عقیدت مند بڑی عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

پاکستان کی میانوالی جیل میں قید تھے شیخ مجیب

تاریخی ریکارڈ کے مطابق 25 مارچ 1971 کی فوجی کارروائی کے بعد عوامی لیگ کے لیڈرشیخ مجیب الرحمن کو پاکستانی فوج نے گرفتار کر لیا تھا اور انہیں مغربی پاکستان کی میانوالی جیل میں رکھا گیا تھا۔ اس وقت انہیں سزائے موت سنائی جا چکی تھی، جس کے باعث ان کے اہل خانہ اور حامی شدید پریشانی اور غم میں مبتلا تھے۔

برلا مندر میں بابا کا وہ پراسرار پیغام

میڈیا رپورٹس اور عوامی روایت میں موجود یادداشتوں کے مطابق اسی دور میں بابا نیم کروڑی دہلی کے مشہور برلا مندر میں موجود تھے۔ مندر کے احاطے میں لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع تھی۔ اسی دوران بابا نے بھیڑ میں سے ایک پیغام بھجوایا اور کہلوایا کہجس شخص کا بھائی جیل میں ہے، وہ میرے پاس آئے۔جب وہ شخص بابا کے سامنے پہنچا تو اس نے اپنی پریشانی بیان کی اور بتایا کہ اس کا بھائی پاکستان کی جیل میں قید ہے اور اسے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

وہ اپنے ملک کا سب سے بڑا حکمراں بنے گا

دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس شخص کی بات سننے کے بعد بابا نیم کرولی نے اسے تسلی دی اور کہا کہ اس کا بھائی جلد ہی دشمنوں کی قید سے محفوظ باہرآجائے گا۔ روایات کے مطابق بابا نے یہاں تک کہا کہ وہ شخص آگے چل کر اپنے ملک کا سب سے بڑا حکمراں بنے گا۔ اس کے بعد بابا نے اسے واپس جا کر استقبال کی تیاری کرنے کی ہدایت دی۔ کہا جاتا ہے کہ بابا سے ملاقات کرنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ شیخ مجیب الرحمن کا چھوٹا بھائی تھا۔

بنگلہ دیش کی آزادی اور شیخ مجیب کا کردار

اگرچہ اس طرح کے واقعات مرکزی دھارے کے تاریخی دستاویزات کا حصہ نہیں ہیں، لیکن تاریخی طور پر یہ بات درج ہے کہ دسمبر 1971 میں پاکستان کی قید سے رہائی کے بعد شیخ مجیب الرحمن آزاد بنگلہ دیش واپس پہنچے۔ بعد میں وہ ملک کے وزیراعظم اور صدر بنے اور انہیں ’بنگ بندھو‘ اور ’قوم کے بانی‘ کے طور پر بھی یاد کیا گیا۔بحران اور غیر یقینی کے اس دور میں لوگوں کی عقیدت اور امید نے کس طرح روحانی سہارے اور معجزات کی تلاش کی، بابا نیم کرولی سے جڑا یہ واقعہ اسی کا ایک دلچسپ عوامی روایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس پیش گوئی سے متعلق دعوے کو تاریخی حقیقت کے طور پر ثابت کرنے کے لیے معتبر دستاویزی شواہد دستیاب نہیں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read