Bharat Express DD Free Dish

First Muslim UK PM: لندن میں سیاسی ہلچل، شبانہ محمود بن سکتی ہیں برطانیہ کی پہلی مسلم وزیراعظم

ایپسٹین فائلز کے انکشاف نے کیئر اسٹارمر کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے، استعفے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں، جانشینی کی دوڑ میں امیگرنٹس ہونے کے باوجود امیگریشن پر سخت مؤقف رکھنے والی شبانہ محمود مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئی ہیں۔

نئی دہلی/لندن: برطانیہ اس وقت شدید سیاسی بحران اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایپسٹین فائلز کے انکشافات نے پہلے ہی سیاسی ماحول میں ہلچل مچا رکھی تھی، اب وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی معاونین کے مسلسل استعفوں کے بعد ان کے مستعفی ہونے کی قیاس آرائیاں مزید تیز ہوگئی ہیں۔ ایسے میں برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم کے طور پر جن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں ہوم سکریٹری شبانہ محمود سب سے نمایاں اور مضبوط امیدوار کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ اگر شبانہ محمود وزیراعظم کے عہدے تک پہنچتی ہیں تو وہ برطانیہ کی پہلی مسلم خاتون وزیراعظم ہوں گی، جو نہ صرف برطانوی سیاست بلکہ یورپی تاریخ میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

سیاسی بحران کی جڑ: ایپسٹین فائلز اور استعفوں کا سلسلہ

ایپسٹین فائلز سے جڑے تازہ انکشافات نے برطانیہ کی سیاست میں زبردست بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی یکے بعد دیگرے مستعفی ہو رہے ہیں، جس سے ان کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ گزشتہ پیر کو وزیراعظم کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر ٹم ایلن نے استعفیٰ دے دیا، جبکہ اس سے قبل چیف آف اسٹاف مورگن میک سوینی بھی 8 فروری کو اپنے عہدے سے دستبردار ہو چکے تھے۔ ان استعفوں نے حکومت کو مزید کمزور کر دیا ہے اور اپوزیشن سمیت خود لیبر پارٹی کے اندر بھی قیادت کی تبدیلی کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔

شبانہ محمود: وزیر اعظم کی مضبوط امیدوار

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر کیئر اسٹارمر مستعفی ہوتے ہیں تو شبانہ محمود ان کی سب سے مضبوط جانشین ثابت ہو سکتی ہیں۔ وہ اس وقت برطانیہ کی ہوم سکریٹری (وزیر داخلہ) ہیں اور لیبر پارٹی کی سینئر اور بااثر لیڈر مانی جاتی ہیں۔ شبانہ محمود کو وزیراعظم اسٹارمر کی قریبی اور قابل اعتماد ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کی سیاسی سمجھ بوجھ، انتظامی تجربہ اور مضبوط فیصلہ سازی انہیں اس عہدے کے لیے ایک سنجیدہ امیدوار بناتی ہے۔

امیگرنٹس کی بیٹی، مگر امیگریشن پر سخت گیر

یہ معاملہ خاص طور پر توجہ طلب ہے کہ شبانہ محمود خود امیگرنٹس کی بیٹی ہیں، اس کے باوجود وہ برطانیہ میں امیگریشن پالیسی پر سخت مؤقف رکھتی ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں لیبر پارٹی کے اندر دائیں بازو کے حلقوں کی پسندیدہ لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ بطور وزیر داخلہ انہوں نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کیے، سرحدی کنٹرول کو مزید مضبوط بنایا اور مستقل شہریت (پرماننٹ ریزیڈنسی) کے لیے اہلیت کی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے جیسے فیصلے کیے۔ ان اقدامات کی وجہ سے انہیں ایک ہارڈ لائنر سیاست دان کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تعلیمی اور سیاسی پس منظر

شبانہ محمود اس سے قبل وزیر انصاف کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں، جہاں انہوں نے جیل اصلاحات، سزاؤں کے نظام اور انسانی حقوق کے حوالے سے اہم کام کیا۔ وہ سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر اور پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو اپنی سیاسی تحریک قرار دیتی ہیں۔ ان کا تعلق پاک مقبوضہ کشمیر کے ضلع میرپور سے بتایا جاتا ہے، اور وہ برطانیہ میں ایشیائی و مسلم کمیونٹی کی ایک نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں۔

مسلم نمائندگی کے لیے تاریخی لمحہ

اگر شبانہ محمود وزیراعظم بن جاتی ہیں تو یہ نہ صرف برطانیہ میں مسلم نمائندگی کے لیے بلکہ ایشیائی کمیونٹی اور خواتین قیادت کے لیے بھی ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت برطانوی سیاست میں تنوع، شمولیت اور سماجی ہم آہنگی کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

وزیر اعظم کی دوڑ میں دیگر نام

شبانہ محمود کے علاوہ برطانیہ میں وزیر اعظم کی دوڑ میں چند اور اہم نام بھی شامل ہیں:

اینجیلا رینر– سابق ڈپٹی وزیراعظم اور لیبر پارٹی کی نائب صدر

ویس اسٹریٹنگ – موجودہ وزیر صحت، میڈیا میں مضبوط شبیہ کے حامل

ایڈ ملی بینڈ – وزیر توانائی اور سابق لیبر پارٹی سربراہ

اینڈی برنہم – گریٹر مانچسٹر کے میئر اور سابق کابینی وزیر

تاہم تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں شبانہ محمود سب سے متوازن، تجربہ کار اور مستحکم انتخاب ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایپسٹین فائلز سے جڑے تنازع، پارٹی کے اندر اختلافات، مسلسل استعفے اور کم ہوتی مقبولیت نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر پر دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے میں قیادت کی تبدیلی کے امکانات کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read