جگدیپ دھنکھڑنے نائب صدرعہدے سے پیر (21 جولائی، 2025) کی رات استعفیٰ دے دیا۔ منگل (22 جولائی، 2025) کو ان کا استعفیٰ منظور بھی ہوگیا، لیکن جس طرح سے اچانک سے استعفیٰ ہوا ہے، اس سے کئی طرح کے سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ کیونکہ ان کی مدت 2027 تک تھی۔ انتخابی سال میں بہارمیں اس پر سیاست شروع ہوگئی ہے۔ جگدیپ دھنکھڑ کے استعفیٰ پر آرجے ڈی رکن اسمبلی مکیش روشن نے منگل کے روز میڈیا سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ نتیش کمار کو نائب صدر بنانے کے لئے ان کا استعفیٰ لیا گیا ہے۔
‘اگلا استعفیٰ وزیراعلیٰ نتیش کمار کا ہوگا‘
آرجے ڈی رکن اسمبلی مکیش روشن نے کہا کہ بہارمیں بی جے پی الیکشن تک اپنا وزیراعلیٰ بنانا چاہتی ہے۔ آگے بھی حکومت بننے پر اپنا وزیراعلیٰ بنائے گی۔ اگلا استعفیٰ وزیراعلیٰ نتیش کمارکا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جے ڈی یو کوختم کرنے میں بی جے پی لگی ہے۔ نتیش کمار کے قریبی لیڈران اوربی جے پی نے اپنے پالے میں کرلیا ہے۔ کھیلا شروع ہوگیا ہے۔
‘نائب صدرنہیں… بہارکے وزیراعلیٰ بنے رہیں گے نتیش کمار’
آرجے ڈی کے دعوے پرجے ڈی یوکی طرف سے بھی اپنا موقف واضح کردیا گیا ہے۔ جے ڈی یوکوٹے کے وزیرمدن سہنی نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے بات چیت میں کہا کہ نتیش کمارنائب صدرنہیں بنیں گے۔ بہارکے وزیراعلیٰ ہیں۔ آگے بھی رہیں گے۔ آرجے ڈی جھوٹا من گھڑت دعویٰ کررہی ہے۔ این ڈی اے میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کیا جاتا۔
ایس آئی آرپرعوام کو گمراہ کرنے کا الزام
جے ڈی یوایم ایل اے مدن سہنی نے کہا کہ جگدیپ دھنکھڑ نے اپنی صحت کی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے۔ جبراً نہیں ہٹائے گئے ہیں۔ ان کے استعفیٰ کو نتیش کمارسے نہ جوڑا جائے۔ وہیں مانسون سیشن میں ایوان کے اندراورباہراپوزیشن ووٹرلسٹ نظرثانی مہم (ایس آئی آر) پرگھیر رہا ہے۔ اس کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر سے متعلق اپوزیشن عوام کوگمراہ کررہا ہے۔ یہ مہم ووٹرلسٹ کی پاکیزگی اورشفافیت کویقینی بنانے کے لیے ہے۔ ووٹرلسٹ سے ان لوگوں کے نام حذف کئے جا رہے ہیں، جودراندازہیں، جو مر چکے ہیں، جوبہارسے باہرچلے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


