لوک سبھا میں تعلیم سے متعلق امور پر بحث کے دوران کانگریس رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کے ایک بیان نے نیا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا۔ پرینکا گاندھی نے مبینہ طور پر آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کامکوٹی کے لیے ’گاؤ موتر ایکسپرٹ‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ اس بیان کے بعد سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی، جبکہ پروفیسر کامکوٹی کی تعلیمی قابلیت، تحقیقی کام اور سائنسی خدمات بھی بحث کا موضوع بن گئیں۔
معاملہ کیا تھا؟
جنوری 2025 میں آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی. کاماکوٹی نے چنئی میں ماتو پونگل (Mattu Pongal) کے ایک پروگرام میں گائے کے پیشاب کی مبینہ طبی خصوصیات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوموتر میں ’اینٹی بیکٹیریل‘ اور ’اینٹی فنگل‘ خصوصیات ہوسکتی ہیں اور یہ بعض مسائل، جیسے ہاضمے کی خرابی اور آئی بی ایس (Irritable Bowel Syndrome)، میں فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ایک سنیاسی کی کہانی بھی سنائی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ گوموتر پینے سے اس کا بخار ٹھیک ہوگیا۔ ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے اسے روایتی ہندوستانی علم کا حصہ قرار دیا، جبکہ کئی طبی ماہرین اور سیاسی مخالفین نے اسے سائنسی شواہد کے بغیر دعویٰ قرار دیا۔
پرینکا گاندھی نے ’گاؤ موتر ایکسپرٹ‘ کیوں کہا؟
پرینکا گاندھی کا یہ جملہ بنیادی طور پر طنزیہ (sarcastic) تھا۔ ان کا مقصد یہ کہنا تھا کہ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے سربراہ کو جدید سائنس، تحقیق اور تعلیم کے موضوعات پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ایسے دعوے کرنے چاہئیں جن پر طبی دنیا میں اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا کہ آئی آئی ٹی جیسے ادارے کے سربراہ کی طرف سے ایسے بیانات سائنسی مزاج (scientific temper) کے خلاف جاتے ہیں۔ کانگریس رہنما کارتھی چدمبرم نے بھی کاماکوٹی کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
پروفیسر کاماکوٹی کا دفاع کیا تھا؟
پروفیسر کاماکوٹی نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تبصرے کچھ تحقیقی مطالعات اور روایتی ہندوستانی طریقہ علاج سے متعلق تھے۔ انہوں نے کہا کہ گوموتر کے بعض اجزا پر تحقیق موجود ہے اور وہ اپنے ذاتی تجربے کی بات کر رہے تھے، نہ کہ کسی سرکاری طبی ہدایت کی۔
اصل تنازعہ کہاں ہے؟
یہ تنازعہ تین بڑے نکات کے گرد گھومتا ہے:
سائنس بمقابلہ روایتی عقائد
کچھ لوگ گوموتر کو آیوروید اور روایتی طریقہ علاج کا حصہ مانتے ہیں، جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ کسی بھی علاج کو بڑے پیمانے پر تسلیم کرنے کے لیے مضبوط سائنسی تحقیق ضروری ہے۔
آئی آئی ٹی جیسے ادارے کی ذمہ داری
ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی آئی ٹی جیسے سائنسی ادارے کے سربراہ کو عوامی طور پر ایسے دعووں میں احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ ان کے الفاظ کو سائنسی اعتبار حاصل سمجھا جا سکتا ہے۔
سیاسی بحث:
یہ معاملہ صرف صحت تک محدود نہیں رہا بلکہ بی جے پی، کانگریس اور دیگر سیاسی حلقوں کے درمیان نظریاتی بحث کا موضوع بن گیا۔ ایک طرف اسے ہندوستانی ثقافت اور روایتی علم کا احترام بتایا گیا، دوسری طرف اسے سائنسی سوچ کے خلاف قرار دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

