Bharat Express DD Free Dish

Preparations in Sambhal for Holi: ہولی کو لے سنبھل میں تیاری، تحصیل کی مسجدوں میں لیکھپال کریں گے ڈیوٹی

24 نومبر کو ہوئے ہنگامے کے بعد انتظامیہ زیادہ محتاط ہے۔ ابھی سنبھل کے حالات پرسکون ہو رہے تھے کہ سی او انوج چودھری کے بیان سے علاقے کی سیاست گرم ہو گئی۔ ہولی اور جمعہ کی نمازیں 14 مارچ کو ایک ساتھ پڑ رہی ہیں۔

ایس ڈی ایم وندنا مشرا

سنبھل: ملک میں اس سال ہولی اور جمعہ ایک ہی تاریخ 14 مارچ کو ہونے جا رہے ہیں۔ اس کو لے مختلف پارٹیوں خاص طور پر حکمراں جماعت کے کچھ لیڈران کی طرف سے ہونے والے بیان بازی سے ملک کا سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ ایسے میں ہولی اور جمعہ کو لے سیکورٹی کے سخت انتظامت کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں اتر پردیش کے سنبھل میں بھی ہولی کے پیش نظر بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں۔ پورے ضلع کو سیکٹرز اور زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تحصیل کی مساجد میں لیکھپال کو تعینات کیا گیا ہے۔

ایس ڈی ایم وندنا مشرا نے کہا کہ ہولی کے پیش نظر پورے ضلع کو سیکٹر، سب سیکٹر اور زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تحصیل سطح کی مساجد میں لیکھپال کو تعینات کیا گیا ہے۔ لیکھپال اور ریونیو افسران علاقے کے دورے پر ہوں گے۔ نائب تحصیلدار بھی علاقے کا دورہ کریں گے۔ اس کے علاوہ 126/135 کے تحت 1,015 افراد کو پابند کیا گیا ہے تاکہ تہوار امن اور ہم آہنگی کے ساتھ منایا جا سکے۔

24 نومبر کو ہوئے ہنگامے کے بعد انتظامیہ زیادہ محتاط ہے۔ ابھی یہاں حالات پرسکون ہو رہے تھے کہ سی او انوج چودھری کے بیان سے علاقے کی سیاست گرم ہو گئی۔ ہولی اور جمعہ کی نمازیں 14 مارچ کو ایک ساتھ پڑ رہی ہیں۔ اس کے بارے میں انوج چودھری نے کہا تھا کہ جمعہ ایک سال میں 52 بار آتا ہے، جب کہ ہولی سال میں صرف ایک بار آتی ہے۔

سی او انوج چودھری نے مسلم کمیونٹی سے اپیل بھی کی کہ اگر کسی کو رنگ ابیر کھیلنے میں دقت ہو تو وہ گھر پر ہی نماز ادا کر لیں یا باہر جائیں تو رنگ لگانے کو لے کر برا نہ مانیں۔

ان کے اس بیان کے بعد کئی سیاسی پارٹیاں ان پر حملہ آور ہو گئے اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد انتظامیہ نے یہاں سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے ہیں۔ علاقے میں خصوصی چوکسی رکھی جارہی ہے۔ سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ ہولی کے پیش نظر افسران علاقے میں گشت بھی کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read