Bharat Express DD Free Dish

Prajwal Revanna convicted in rape case: پرجول ریونا عصمت دری کیس میں مجرم قرار، فیصلہ سنتے ہی رو پڑا ہاسن کا سابق ایم پی

ریونا پر28 اپریل سے 10 جون 2024 کے درمیان 4 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ یہ مقدمات ضلع ہاسن کے ہولینراسی پورہ پولیس اسٹیشن میں درج کیے گئے۔ سائبر کرائم کے 2 مقدمات میں سے ایک سی آئی ڈی کے تحت سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔

پرجول ریونا عصمت دری کیس میں مجرم قرار،

بنگلورو: لوک سبھا کے سابق رکن پارلیمنٹ اور جے ڈی ایس کے برطرف لیڈر پرجول ریونا کو بنگلورو میں عوامی نمائندوں کی خصوصی عدالت نے عصمت دری کے ایک کیس میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ریونا پر ہاسن ضلع کے ہولینراسی پورہ میں ایک فارم ہاؤس میں گھریلو ملازمہ کی عصمت دری کا الزام تھا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ جیسے ہی عدالت نے ہاسن کے سابق ایم پی پراجول ریونا کے خلاف فیصلہ سنایا، وہ عدالت میں ہی رونے لگا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ بلک بلک کر رونے لگا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے صرف 14 ماہ بعد یہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔ وہیں، عدالت 2 اگست کو سزا کی مدت کا اعلان کرنے والی ہے۔

’’تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی کی ٹیم کو مبارکباد‘‘

جے ڈی ایس کے سابق ایم پی پرجول ریونا کو عصمت دری کیس میں قصوروار ٹھہرائے جانے پر، ایڈوکیٹ اشوک نائک نے کہا، ’’ایم پی/ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے سابق ایم پی پراجول ریونا کو مجرم ٹھہرایا۔ کل سزا کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس معاملے میں، ہم نے 26 گواہوں کی جانچ کی ہے … تینوں کی تیز رفتاری سے جرح کی گئی ہے۔ متاثرہ کی جیت میں ان کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

سابق ایم پی پراجول ریونا سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کا پوتا اور سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کا بھتیجا ہے۔ اس پر جنسی تشدد اور عصمت دری کے چار مختلف مقدمات میں سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ریونا پر28 اپریل سے 10 جون 2024 کے درمیان 4 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ یہ مقدمات ضلع ہاسن کے ہولینراسی پورہ پولیس اسٹیشن میں درج کیے گئے۔ سائبر کرائم کے 2 مقدمات میں سے ایک سی آئی ڈی کے تحت سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔