نئی دہلی : تاریخ میں 14 اگست کی تاریخ برصغیر کے لیے انتہائی اہم اور جذباتی حیثیت رکھتی ہے۔ سال 1947 میں اسی روز ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر وجود میں آیا، جب کہ اگلے روز 15 اگست کو ہندوستان نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی۔ آزادی کی یہ کامیابی جہاں طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی، وہیں اس کے ساتھ تقسیم کا ایسا المیہ بھی وابستہ تھا جس نے لاکھوں خاندانوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔برطانوی اقتدار کے خاتمے اور نئی سرحدوں کے تعین کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر سرحد کے دوسری جانب ہجرت کرنا پڑی۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس بڑے پیمانے کی نقل مکانی کے دوران تشدد، فسادات اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے ایک خوفناک انسانی بحران پیدا کیا۔ مؤرخین کے اندازوں کے مطابق تقسیم کے دوران تقریباً 1 سے 1.5 کروڑ افراد بے گھر ہوئے، جبکہ لاکھوں لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ 14 اگست کو پاکستان اپنا یومِ آزادی مناتا ہے، جبکہ ہندوستان میں یہ دن یومِ آزادی کے موقع پر کی جانے والی تقریبات کی شام کے طور پر آتا ہے۔ اس لیے یہ تاریخ آزادی کی خوشی کے ساتھ ساتھ تقسیم کے درد کی یاد بھی دلاتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے تقسیم ہند کے دوران متاثر ہونے والے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے کرتے ہیں، جنہوں نے اس ہولناک دور سے گزرنے کے باوجود اپنی زندگی دوبارہ سنواری اور ملک کی ترقی میں قیمتی کردار ادا کیا۔وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج ملک ’’یومِ یادِ تقسیم کی ہولناکی‘‘ منا رہا ہے۔ یہ دن ان تمام لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو یاد کرنے کا موقع ہے، جو تقسیم کے سانحے سے متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کا یہ وہ دور تھا جس نے بے شمار زندگیاں تباہ کردیں، خاندان اجڑ گئے، لوگوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا اور لاکھوں افراد کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان مشکل حالات سے نکلنے کے بعد متاثرہ لوگوں نے صفر سے اپنی زندگی دوبارہ شروع کی۔ انہوں نے چیلنجز کو کامیابی میں تبدیل کیا اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم رول ادا کیا ۔ مودی کے مطابق ان لوگوں کی زندگی کا سفر انسانی حوصلے، عزم اور مشکلات پر قابو پانے کی طاقت کی یاد دلاتا ہے۔انہوں نے دعا کی کہ یہ دن ملک میں باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور اتحاد برقرار رکھنے کے عزم کو مزید مضبوط کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تمام شہریوں کو مل کر ’’وکست بھارت‘‘ یعنی ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔
ایک اور پیغام میں نریندر مودی نے تقسیم کے ہولناک دور سے گزرنے والے تمام شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے حوصلے اور صلاحیت کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ نامساعد حالات کے باوجود عزم اور ارادوں کو کامیابی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ خیرسگالی، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔
اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے ایک سنسکرت سبھاشتم بھی شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’उद्यमस्य प्रसादेन दृश्यन्ते विविधाः कलाः। कातरा एव जल्पन्ति यद् भाव्यं तद् भविष्यति۔‘‘
اس سنسکرت قول کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ محنت، جدوجہد اور مسلسل کوشش سے ہی مختلف فنون، علوم، تکنیکی مہارتیں، دست کاری اور اختراعات ترقی کرتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انسان کو صرف قسمت کے سہارے نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ حوصلے، محنت اور مستقل کوشش کے ساتھ اپنے مقصد کی جانب آگے بڑھنا چاہیے۔وزیر اعظم کے مطابق انسان کی عملی جدوجہد ہی اس کے مستقبل کی بنیاد بناتی ہے۔ تقسیم کے متاثرین کی زندگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اسی جذبے کو آگے بڑھانے اور مشکل حالات میں بھی عزم و حوصلے کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





