نئی دہلی: پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) نے محکمہ سائنسی و صنعتی تحقیق ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے اشتراک سے جمعہ 27 مارچ 2026 کو نئی دہلی میں ’’ای کامرس لاجسٹکس 2026: اے آئی اور آٹومیشن کے ذریعے نئی نسل کی سپلائی چین‘‘ کے موضوع پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار میں سینٹرل ویئرہاؤسنگ کارپوریشن کے ڈائریکٹر (M&CP) سموئیل پروین کمار بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر وپن چندر شکلا، سائنسدان-جی اور سربراہ DSIR، آئی وی راؤ، ڈسٹنگوشڈ فیلو، ٹرانسپورٹ اینڈ اربن گورننس، ٹی ای آر آئی، اور ریلائنس ریٹیل لمیٹڈ کے نائب صدر پرشانت گور سمیت کئی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر اے آئی پر مبنی لاجسٹکس، ای کامرس سپلائی چین، ڈیجیٹل انضمام، ویئرہاؤسنگ میں آٹومیشن اور لاجسٹکس لاگت میں کمی جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سیمینار میں لاجسٹکس، ریٹیل اور ٹیکنالوجی سے وابستہ مختلف شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور مستقبل کے لیے زیادہ مؤثر، اسمارٹ اور پائیدار سپلائی چین کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ڈیٹا انضمام، اے آئی پر مبنی نظام اور ریئل ٹائم نگرانی سپلائی چین کو مضبوط بنا رہی ہے
سموئیل پروین کمار نے اپنے خطاب میں بھارت کے لاجسٹکس سیکٹر کی تیز رفتار ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ شعبہ زیادہ مؤثر اور مستقبل کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا انضمام، اے آئی پر مبنی نظام اور ریئل ٹائم نگرانی سپلائی چین کو مضبوط بنا رہی ہے، جس سے آپریشنل کارکردگی اور صارفین کے تجربے میں بہتری آ رہی ہے۔

تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور
ڈاکٹر وپن چندر شکلا نے صنعت، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ DSIR مختلف فنڈنگ اسکیموں اور تحقیقی اقدامات کے ذریعے صنعت کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے، خاص طور پر ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ایس ایم ای سیکٹر عالمی سطح پر 50 فیصد سے زائد روزگار فراہم کرتا ہے اور 2030 تک تقریباً 60 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

’بھارت میں ای کامرس اور لاجسٹکس کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے‘
آئی وی راؤ نے کہا کہ بھارت میں ای کامرس اور لاجسٹکس کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، لیکن اسے مزید پائیدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اے آئی پر مبنی روٹ آپٹیمائزیشن، ریئل ٹائم ڈیٹا اور گرین سپلائی چین کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ریلائنس ریٹیل کے نائب صدر پرشانت گور نے کہا کہ ڈیجیٹل اپنانے اور چھوٹے شہروں میں بڑھتی طلب کی وجہ سے بھارت کا ای کامرس سیکٹر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے لاجسٹکس لاگت، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور آخری مرحلے کی ترسیل جیسے چیلنجز پر بھی توجہ دینے کی ضرورت بتائی۔ پی ایچ ڈی سی سی آئی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل موہت لتھرا نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ پی ایچ ڈی چیمبر مستقبل میں بھی حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایسے پلیٹ فارم فراہم کرتا رہے گا تاکہ بھارت کے لاجسٹکس سیکٹر کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
