نئی دہلی: جین آچاریہ لوکیش جی کی قیادت میں چلائی جا رہی عالمی مہم “وی سپورٹ پیس” ہمالیہ کی مقدس وادیوں اور دنیا بھر میں روحانی اہمیت رکھنے والے خطے لداخ تک پہنچ گئی۔ اس خصوصی موقع پر مختلف مذاہب اور روحانی روایات سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں اور عالمی امن، بھائی چارے، ہمدردی اور انسانی اتحاد کا پیغام دیا۔یہ پروگرام بھارت کی عظیم روایات “تنوع میں اتحاد” اور “وسودھیو کٹمبکم” یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، کی خوبصورت عکاسی کرتی نظر آرہی ہے۔ تقریب میں مختلف مذاہب کے لیڈروں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت امن، باہمی احترام اور ہم آہنگی کی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آچاریہ لوکیش جی نے کہا کہ آج کے دور میں امن انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت جنگ، تشدد، دہشت گردی، انتہا پسندی، سماجی عدم توازن اور ذہنی دباؤ جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں امن صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے وجود، ترقی اور استحکام کے لیے ناگزیر ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی امن صرف جنگ یا تنازع کے خاتمے کا نام نہیں، بلکہ محبت، رحم دلی، رواداری، باہمی احترام اور اندرونی سکون کے مثبت احساس کا نام ہے۔ آچاریہ لوکیش جی کے مطابق دنیا میں پائیدار امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب انسان ایک دوسرے کے عقائد، ثقافتوں اور روایات کا احترام کرنا سیکھیں۔
تقریب میں مہابودھی انٹرنیشنل میڈیٹیشن سینٹر کے بانی بھکشو سنگھاسینا، بھریگو فاؤنڈیشن کے گوسوامی سشیل جی مہاراج، آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے عمر احمد الیاسی، دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے پرمجیت سنگھ چندوک، بہائی ٹیمپل کے ڈاکٹر اے کے مرچنٹ اور برہما کماریز کی نمائندہ ڈاکٹر بنی سرین بھی موجود تھیں۔

تمام مذہبی لیڈروں نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی، بقائے باہمی اور انسانی اقدار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی نفرت اور تشدد کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے مختلف مذاہب اور معاشروں کے درمیان مکالمہ اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


