بھوجپوری سپر اسٹار پون سنگھ نے لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی اہلیہ جیوتی سنگھ کے ساتھ جاری تنازع پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ جیوتی نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تھا کہ وہ ان سے ملنے لکھنؤ آ رہی ہیں۔ پون سنگھ کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے سے ہی جیوتی کے رویے اور ارادوں کا اندازہ تھا، اسی لیے انہوں نے انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دے دی تھی۔ پون سنگھ نے بتایا کہ رات کو وہ اپنے دوست دھننجے اور رتک کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، تب اطلاع ملی کہ جیوتی کے بھائی نے کہا ہے کہ وہ لوگ آ رہے ہیں۔ اس پر پون نے کہا کہ ان کا ذہنی حال ٹھیک نہیں تھا، اس لیے انہوں نے کہا کہ وہ ایک دو دن بعد آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ رات کو سو رہے تھے تو ان کے بڑے بھائی نے آ کر بتایا کہ جیوتی نیچے پہنچ گئی ہیں۔ پون سنگھ نے کہا کہ،’’قانون میرے لیے بھی اہم ہے اور ان کے لیے بھی۔ طلاق کا کیس آرا میں چل رہا ہے اور مینٹیننس کا کیس بلِیا میں۔‘‘
چائے پلائی، پانی دیا اور سمجھانے کی کوشش کی
پون سنگھ نے بتایا کہ وہ جیوتی اور ان کے بھائی بہنوں سے ملے، انہیں چائے پلائی، پانی دیا اور سمجھایا، لیکن جیوتی نے صاف کہا کہ جب تک طلاق کا معاملہ ختم نہیں ہوتا، وہ وہاں سے نہیں جائیں گی۔ پون نے انہیں سمجھایا کہ ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر مقدمہ نہیں لڑا جا سکتا۔
پوری رات گاڑی میں گزاری
انہوں نے بتایا کہ میٹنگ پر جانے سے پہلے انہوں نے جیوتی کے لیے کھانے کا انتظام کروایا اور دھننجے سے کہا کہ وہ بات کریں۔ میٹنگ کے دوران ان کا فون دور تھا، لیکن جب انہوں نے فون چیک کیا تو گھر کی حالت کافی خراب ہو چکی تھی۔ اس لیے انہوں نے یصلہ کیا کہ وہ گھر نہیں جائیں گے اور پوری رات گاڑی میں ہی گزاری۔ آخر میں پون سنگھ نے کہا کہ ان کا رویہ کیسا رہا، یہ جیوتی، ان کا دل اور خدا جانتے ہیں۔ انہوں نے اس پر امن اور احترام قائم رکھنے کی اپیل کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


