Bharat Express DD Free Dish

Parliament Is Supreme, No Authority Above It: پارلیمنٹ سب سے اوپر ہے، اس سے اوپر کوئی نہیں، نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے پھر سے سپریم کورٹ پر کیا اشارہ

واضح رہے کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھر پہلے  بھی  کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ سب سے اعلیٰ ہے اور منتخب لیڈر فیصلہ کریں گے کہ آئین کیسا ہوگا۔ ان کے بقول کوئی دوسرا ادارہ اراکین پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔

جگدیپ دھنکھڑ

نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے ایک بار پھر آئین ہند میں طے شدہ گورننس کے فریم ورک کے اندر عدلیہ کے کردار اور حدود پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور نمائندوں (ایم پیز) کو یہ فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار ہے کہ آئین کیسا ہوگا، ان سے اوپر کوئی نہیں ہو سکتا۔نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے آج دہلی یونیورسٹی میں ایک پروگرام میں کہا کہ پارلیمنٹ ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور منتخب ممبران پارلیمنٹ فیصلہ کریں گے کہ آئین کیسا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ پارلیمنٹ سے اوپر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے دو فیصلوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بار عدالت نے کہا کہ آئین کا تمہید اس کا حصہ نہیں ہے (گولک ناتھ کیس کے تناظر میں)، پھر دوسری بار کہا کہ تمہید آئین کا حصہ ہے (کیسوانند بھارتی کیس کے تناظر میں)۔

جمہوریت میں خاموش رہنا خطرناک ہے: دھنکھر

نائب صدر دھنکھر نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں بات چیت اور کھلی بحث بہت ضروری ہے۔ اگر سوچ رکھنے والے لوگ خاموش رہیں تو یہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئینی عہدوں پر فائز لوگوں کو ہمیشہ آئین کے مطابق بات کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنی ثقافت اور ہندوستانیت پر فخر ہونا چاہیے۔ ملک میں بدامنی، تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا درست نہیں ہے۔ ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات بھی کیے جانے چاہیے۔

واضح رہے کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھر پہلے  بھی  کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ سب سے اعلیٰ ہے اور منتخب لیڈر فیصلہ کریں گے کہ آئین کیسا ہوگا۔ ان کے بقول کوئی دوسرا ادارہ اراکین پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور سینئر وکیل کپل سبل نے ان کے بیان پر اعتراض کیا تھا۔ سبل نے کہا تھا کہ نائب صدر کا یہ بیان سپریم کورٹ جیسے آئینی ادارے کو کمزور کرتا ہے، جو جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

    Tags:

Also Read