نوئیڈا: ایمیٹی یونیورسٹی، نوئیڈا میں نوبل امن انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کی نئی کتاب ’کرونا: سمادھان کی شکتی‘ کی رونمائی اور کتاب پر مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ’بھارت ایکسپریس‘ سے خصوصی گفتگو میں کیلاش ستیارتھی نے اپنی کتاب، عالمی بحران اور نئی نسل (Gen-Z) کے کردار پر تفصیلی بات کی۔
’کرونا ہزاروں سال سے سنا جانے والا لفظ، لیکن اس پر عمل نہیں ہوا‘
کیلاش ستیارتھی نے کہا کہ لوگ ہزاروں سال سے ’کرونا‘ کا لفظ سنتے آ رہے ہیں، لیکن اسے عملی زندگی میں نہیں لا سکے۔ ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر کرونا کو صرف جذبہ، رحم، مہربانی، ایثار یا سماجی قدر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ سب اچھے سماجی اقدار اور جذبات ہیں، لیکن کرونا صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک اندرونی طاقت (Inherent Power) ہے۔ یہ ہم سب کے اندر موجود وہ طاقت ہے جو اپنی اور دوسروں کی مشکلات کا دانش مندانہ حل تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔‘‘
’دنیا جل رہی ہے، انسانیت اور زمین دونوں خطرے میں ہیں‘
نوبل امن انعام یافتہ نے موجودہ عالمی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں انسانیت اور زمین دونوں خطرے میں ہیں۔ پوری دنیا میں شدت پسندی، تشدد اور نفرت بڑھ رہی ہے، جبکہ اخلاقی جواب دہی اور ذمہ داری کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بحران کے وقت یہ ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف کی طرح محسوس کریں اور اسے دور کرنے اور اس کا تدارک کرنے کی پوری کوشش کریں۔ ان کے مطابق اسی کوشش کا نام کرونا ہے۔
’Gen-Z میں دنیا بدلنے کی سب سے بڑی اخلاقی طاقت‘
نئی نسل کے لیے پیغام دیتے ہوئے کیلاش ستیارتھی نے کہا کہ نوجوانوں کے اندر موجود توانائی اور ایمانداری پر انہیں پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل میں یہ صلاحیت واضح طور پر نظر آتی ہے کہ وہ تشدد سے دور رہتے ہوئے سماجی تبدیلی، ناانصافی، ظلم، منافقت اور بدعنوان نظام کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب نوجوان ان مسائل کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو ان میں موجود اخلاقی طاقت ہماری نسل کے مقابلے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل کے لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ حال اور مستقبل دونوں ہی نئی نسل کے ہیں۔ ہمیں ان کے لیے جگہ بنانی چاہیے تاکہ وہ پوری دنیا اور مستقبل کی مؤثر قیادت کر سکیں۔
معروف شخصیات کی موجودگی میں کتاب کی رونمائی
ایمیٹی یونیورسٹی کے ایف-2 آڈیٹوریم میں منعقدہ پروگرام کا اہتمام ’ستیارتھی موومنٹ فار گلوبل کمپیشن‘ اور ایمیٹی یونیورسٹی نے ہارپر کولنز اور کنجوم بکس کے تعاون سے کیا۔ پروگرام میں راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش بطور مہمان خصوصی موجود رہے۔ معروف مصنف اور مفکر پروفیسر پرشوتم اگروال، مصنف و نقاد وید پرکاش اور معروف مصنفہ و آرٹ نقاد رخسانہ جلیل نے بھی خصوصی مہمانوں کی حیثیت سے شرکت کی۔ کتاب پر مباحثے کی نظامت سینئر صحافی سنکیت اپادھیائے نے کی۔
بچوں کے حقوق اور عالمی کرونا کے علمبردار
کیلاش ستیارتھی نے اپنی زندگی استحصال، ظلم اور چائلڈ لیبر کا شکار بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کی ہے۔ انہیں 2014 میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے دنیا کے اعلیٰ ترین اعزاز نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ ’بچپن بچاؤ آندولن‘ کے ذریعے وہ اب تک ایک لاکھ سے زائد بچوں کو چائلڈ لیبر، غلامی اور انسانی اسمگلنگ کے چنگل سے آزاد کرا کے تعلیم اور باعزت زندگی کی جانب لے جا چکے ہیں۔ فی الحال وہ اپنے ادارے ’ستیارتھی موومنٹ فار گلوبل کمپیشن‘ کے ذریعے دنیا بھر میں ’کرونا کے عالمگیریت‘ (Globalising Compassion) کا پیغام عام کر رہے ہیں، تاکہ ہر بچے کے لیے محفوظ، تعلیم یافتہ اور مساوی معاشرے کی تعمیر کی جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




