Bharat Express DD Free Dish

NMACC-INDIAN ARTS TO GLOBAL SHOW: این ایم اے سی سی بنا بھارت کا بڑا ثقافتی پلیٹ فارم، 3500 سے زائد شوز اور 25 لاکھ شائقین

صرف 3 سال میں 10,500 سے زیادہ فنکار، 15 سے زائد زبانوں میں پروگرام اور  2000 نشستوں والے گرینڈ تھیٹر سے چار منزلہ آرٹ ہاؤس تک کی کہانی، پڑھیں یہاں۔

ممبئی، 7 ستمبر 2026: ہندوستانی فن اور دنیا بھر سے بڑے ثقافتی شوز کو ایک ساتھ پیش کرنے کی کوششوں میں گزشتہ تین برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مارچ 2023 میں افتتاح کے بعد سے نیتا مکیش امبانی کلچرل سینٹر نے 3500 سے زیادہ شوز کی میزبانی کی، تقریباً 25 لاکھ شائقین کو راغب کیا اور 15 سے زیادہ زبانوں میں 10,500 فنکاروں کو پیش کیا۔

ہندوستانی کہانیوں سے عالمی شوز تک

ہندوستانی کہانیوں کو بھی این ایم اے سی سی کے اسٹیج پر عظیم الشان پروڈکشنز اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ’مغلِ اعظم: دی میوزیکل‘، ’راجادھراجا: لوٹ لائف لش‘ اور این ایم اے سی سی کی اپنی پیشکش ’دی گریٹ انڈین میوزیکل: سویلائزیشن ٹو نیشن‘ اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ وہیں اسٹوڈیو تھیٹر اور دی کیوب میں ہندی، گجراتی، مراٹھی اور بنگالی سمیت کئی زبانوں میں تھیٹر، موسیقی، کامیڈی اور رقص کے چھوٹے اور تجرباتی پروگرام بھی منعقد ہوتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ہندوستانی شائقین کو دنیا کے بڑے اسٹیجز کی مشہور پیشکشیں ممبئی میں دیکھنے کو ملیں۔ ’دی ساؤنڈ آف میوزک‘، ’ویسٹ سائیڈ اسٹوری‘، ’ماما میا!‘، ’دی فینٹم آف دی اوپرا‘ اور ’وِکڈ‘ جیسے بین الاقوامی شوز این ایم اے سی سی پہنچے۔ یہی وہ سوچ ہے جسے این ایم اے سی سی کی بانی نیتا امبانی نے ابتدا میں اس طرح بیان کیا تھا، ’’بھارت کا بہترین فن دنیا کو دکھانا اور دنیا کا بہترین فن بھارت لانا۔‘‘

عالمی معیار کے لیے وسیع بنیادی ڈھانچہ

اس بڑے پیمانے پر ثقافتی سرگرمیوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ بھی انتہائی اہم ہے۔ این ایم اے سی سی میں 2000 نشستوں والا گرینڈ تھیٹر، 198 نشستوں والا اسٹوڈیو تھیٹر، 80 نشستوں والا دی کیوب اور چار منزلہ آرٹ ہاؤس موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے میوزیکل اور تھیٹر سے لے کر چھوٹی تجرباتی پیشکشوں اور بصری فنون تک مختلف اقسام کے پروگراموں کے لیے سال بھر مختلف مقامات دستیاب ہیں۔

فن صرف تھیٹر اور گیلری تک محدود نہیں

این ایم اے سی سی میں فن کو صرف تھیٹر یا گیلری کی دیواروں تک محدود نہیں رکھا گیا ہے۔ مرکز کے عوامی مقامات پر بھی مختلف فن پارے شامل کیے گئے ہیں، جن میں 56 فٹ کا ’کمل کنج‘، گھنٹیوں سے تیار کردہ ممبئی کی اسکائی لائن اور جاپانی فنکار یاوئی کوساما کا ’کلاؤڈز‘ شامل ہے۔ ریلائنس فاؤنڈیشن کا ’سودیش‘ ہندوستانی دستکاری اور روایتی ہنر کی نمائش کرتا ہے۔ اس طرح ہندوستانی دستکاری کو جدید اور عالمی فن کے مرکزی عنصر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ممبئی سے باہر بھی پھیل رہی ثقافتی رسائی

این ایم اے سی سی کی ثقافتی رسائی اب ممبئی سے باہر بھی پھیل رہی ہے۔ 61ویں وینس بینالے میں ’انڈیا پویلین پریزنٹیشن‘ میں اس کی شرکت ہندوستانی فن کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کی اسی کوشش کا حصہ ہے۔ چوتھے سال شکاگو میں ’دی گریٹ انڈین میوزیکل‘ کی واپسی اور آسکر کے لیے نامزد موسیقار مائیکل ریکٹر کی ہندوستان میں پہلی پرفارمنس بھی اسی توسیع کی عکاس ہے۔ یہ تین سالہ اعداد و شمار صرف پروگراموں کی تعداد کی عکاسی نہیں کرتے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستان میں فن اور ثقافت کے لیے ایک مستقل پلیٹ فارم تیار ہو چکا ہے، جہاں ہندوستانی روایت، نئے فنون اور دنیا بھر کی بڑی ثقافتی پیشکشوں کو ایک ہی ثقافتی چھت کے نیچے جگہ مل رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read