مدھیہ پردیش کے ضلع مرینا میں ایک خاتون ٹیچر اچانک چکر آنے کے باعث سڑک پر گر کر بے ہوش ہو گئیں۔ مدد کی نیت سے جمع ہونے والے لوگوں نے بغیر کسی طبی جانچ کے اسے ہارٹ اٹیک سمجھ لیا اور فوری طور پر انہیں سی پی آر (CPR) دینا شروع کر دیا۔ اس نادانستہ غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاتون کی دو پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
لوگوں نے بے ہوشی کو کارڈیک اریسٹ سمجھ لیا
یہ واقعہ مرینا کے بھُراولی چوراہے کا ہے۔ تلونجری ہائر سیکنڈری اسکول میں تعینات 41 سالہ ٹیچر للیتا دھاکڑ اسکوٹی پر سوار ہو کر اسکول جا رہی تھیں کہ راستے میں اچانک چکر آنے سے سڑک پر گر کر بے ہوش ہو گئیں۔موقع پر موجود افراد نے انسانیت کے جذبے کے تحت ان کی مدد کرنے کی کوشش کی، لیکن نبض یا سانس کی جانچ کیے بغیر انہیں سی پی آر دینا شروع کر دیا۔ اسپتال لے جانے کے دوران بھی کچھ نوجوان مسلسل انہیں سی پی آر دیتے رہے۔
دو پسلیاں ٹوٹ گئیں
جب خاتون ٹیچر کو کیلارس اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں کی جانچ میں چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی۔ بی ایم او ڈاکٹر منیش شرما کے مطابق خاتون کو نہ تو کارڈیک اریسٹ آیا تھا اور نہ ہی ہارٹ اٹیک۔ وہ صرف جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) یا چکر آنے کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھیں۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ غلط طریقے سے اور ضرورت سے زیادہ دباؤ کے ساتھ دیے گئے سی پی آر کے باعث ان کی دو پسلیاں فریکچر ہو گئیں۔ فی الحال خاتون ٹیچر کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
غلط سی پی آر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ سی پی آر (کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن) ایک ہنگامی طبی عمل ہے، جسے صرف اسی صورت میں انجام دینا چاہیے جب مریض کی سانس اور دل کی دھڑکن مکمل طور پر بند ہو چکی ہو۔ماہرین نے خبردار کیا کہ بغیر تربیت اور غلط تکنیک کے ساتھ دیا گیا سی پی آر مریض کے اندرونی اعضا کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص بے ہوش ہو جائے تو سب سے پہلے اس کی سانس اور نبض چیک کریں اور فوری طور پر ایمبولینس طلب کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



