لکھنؤ، 7 ستمبر 2026 — قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تناظر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کی قومی ترقی میں شراکت کو مزید مؤثر بنانے اور وکست بھارت @2047 کے عظیم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے آج اندرا بھون، لکھنؤ میں ایک اہم ریاستی سطح کا سیمینار منعقد ہوا۔ اس کا انعقاد نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی)، حکومتِ ہند اور محکمۂ اقلیتی بہبود و وقف، حکومتِ اتر پردیش کے اشتراک سے کیا گیا۔ اس موقع پر ریاست بھر کے متعدد اقلیتی تعلیمی اداروں کے نمائندوں، اساتذہ اور منتظمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
’’اقلیتی ادارے قوم کی تعمیر کا اہم ستون‘‘
سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے محض علمی مراکز نہیں ہیں بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے والی عملی تجربہ گاہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا ثقافتی ورثہ نہایت امیر ہے اور اقلیتی تعلیمی ادارے وکست بھارت مشن میں تبدیلی کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔‘‘ پروفیسر اختر نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے کمیشن کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اداروں کو ہدایت دی کہ وہ اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی پیدا کریں۔ نیز، انہوں نے اداروں پر زور دیا کہ وہ وکست بھارت @2047 میں اپنے تعاون کے لیے جامع ادارہ جاتی منصوبے ترتیب دیں، ذمہ داریوں کو واضح طور پر متعین کریں اور اپنے چیلنجوں پر پانچ پانچ تجاویز پیش کریں۔
’’تعلیم ہی وکست بھارت کی بنیاد ہے‘‘
اس موقع پر مہمانِ خصوصی، اتر پردیش کے وزیر مملکت برائے اقلیتی بہبود، وقف و حج جناب دانش آزاد انصاری نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے وکست بھارت @2047 کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے تعلیم سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اتر پردیش کی تقریباً 20 فیصد آبادی اقلیتی برادریوں پر مشتمل ہے، جو صلاحیتوں کا ایک بے پناہ خزانہ ہے۔ تعلیم وکست بھارت کے لیے ناگزیر ستون ہے۔‘‘ جناب انصاری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمۂ اقلیتی بہبود اور اتر پردیش حکومت اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے روزگار، تعلیم اور ترقی کو ریاستی حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو ان شعبوں میں پیش پیش رہنا چاہیے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس سال 28 جنوری کو بھی لکھنؤ میں ایک قومی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں اقلیتی تعلیمی اداروں کو ہندوستان کی ترقی کا مرکزی انجن قرار دیا گیا تھا۔ آج کا سیمینار اسی سمت میں ایک اہم کڑی ہے۔
’’تنوع ہماری طاقت ہے، کمزوری نہیں‘‘
اس موقع پر اتر پردیش کے ڈائریکٹر اقلیتی بہبود جناب شیلندر سنگھ یادو بھی موجود تھے، جبکہ لکھنؤ کے مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے نمائندگان اور عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔ گزشتہ برسوں میں این سی ایم ای آئی نے متعدد قومی کانفرنسوں کے ذریعے اس بات پر زور دیا ہے کہ اقلیتی ادارے محض معاون نہیں بلکہ جامع ترقی کے بنیادی محرک ہیں۔ سیمینار کے مقررین نے کہا کہ ہندوستان کا تنوع کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ تعلیم نہ صرف سماجی نقل و حرکت کو فروغ دیتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ اکثریتی اور اقلیتی برادریوں کے مابین ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے نفرت کو خیر سگالی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور تعلیمی ادارے سماجی ہم آہنگی کی مثالی علامت بن سکتے ہیں۔
’’اداروں کے لیے واضح رہنما ہدایات‘‘
سیمینار کے دوران اداروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی عملی منصوبہ بندی کریں اور وکست بھارت @2047 کے ہدف میں اپنے تعاون کو واضح طور پر متعین کریں۔ اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اداروں کو متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ بڑھانے کی ترغیب دی گئی۔ اجلاس میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اختتام ہوا۔ اس سیمینار نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے وکست بھارت @2047 کے سفر میں فعال اور لازمی شراکت دار ہیں۔ حکومت اور کمیشن کی ان کوششوں سے اتر پردیش کے اقلیتی تعلیمی اداروں کو نئی سمت اور توانائی ملنے کی توقع ہے۔ یہ اجتماع اس عزم کا مظہر ہے کہ تعلیم، مساوات اور ترقی کے ذریعے ہی ہم ایک مضبوط اور خوشحال ہندوستان کی تعمیر کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



