شیلانگ: میگھالیہ اسمبلی کے اسپیکر تھامس اے سنگما نے ایوان کے اندر ویڈیو یا تصویر بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک وائرل ویڈیو کے بعد سامنے آیا، جسے پارلیمانی روایات اور قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ ایوان کی کارروائی کے دوران اس نوعیت کی سرگرمیاں نظم و ضبط اور وقار کے منافی ہیں۔ اسپیکر نے 18 فروری کو جاری کردہ اپنے حکم میں کہا کہ اب کوئی بھی رکن اسمبلی ایوان کے اندر نہ تو سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر سکے گا اور نہ ہی تصاویر لے سکے گا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ کسی بھی رکن کی جانب سے ریکارڈ شدہ مواد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرنا بھی ممنوع ہوگا۔ ان کے مطابق یہ اقدام اسمبلی کی سنجیدگی اور تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
پابندی سے قبل ارڈینٹ ملر بسائی وموئٹ، جو وائس آف دی پیپلز پارٹی (وی پی پی) کے سربراہ ہیں، نے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کے اندر ایک ویڈیو بنائی تھی۔ اس ویڈیو میں وہ کارروائی میں حصہ لیتے دکھائی دے رہے تھے، جسے بعد ازاں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کر دیا۔ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور مختلف حلقوں میں اس پر بحث شروع ہو گئی۔ تاہم کچھ وقت بعد مذکورہ ویڈیو کو ہٹا لیا گیا۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے اسپیکر تھامس اے سنگما نے ایوان کو یاد دلایا کہ قواعدِ کار اور ضابطۂ اخلاق کے تحت ایسی سرگرمیاں ممنوع ہیں۔ انہوں نے رول 275 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضابطہ ایوان کی کارروائی کو منظم، باوقار اور سنجیدہ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اراکین کو چاہیے کہ وہ قائم شدہ روایات کا احترام کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو قانون ساز ادارے کی شبیہ کو متاثر کرے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کارروائی کے دوران تقریر کرتے وقت ویڈیو بنا کر اسے عوامی پلیٹ فارم پر نشر کرنا قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کا فیصلہ حتمی ہے اور تمام اراکین کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پابندی سے اسمبلی کی کارروائی کی پاکیزگی، وقار اور قانون سازی کے عمل کی سنجیدگی برقرار رہے گی۔ اسپیکر کے اس فیصلے پر ریاستی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے اور اسے پارلیمانی نظم و ضبط کی بحالی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

