کنہیا کمار کرو یا مرو کی صورتحال سے دوچار ہیں ،کنہیا کمار کو کانگریس نے آخری موقع دیا ہے اور آخری موقع کے طور پر کنہیا کو بہار کا سیاسی میدان دیا ہے، 2019 میں بہار کی سرزمین سے سیاسی مات کھائے ہوئے کنہیا کمار کو 2024 میں دہلی میں بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا ، فرق صرف اتنا تھا کہ 2019 میں کنہیا کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار تھے اور 2024 میں کانگریس پارٹی کے، اپنی بے باکی کیلئے مشہور کنہیا کمار کا سیاسی کیریئر اب بیچ بھنور میں پھنس چکا ہے، اور وہ بھی بہار کے سیاسی بھنور میں ، اس لئے اب کی بار کنہیا کمار کے بجائے آخری بار کنہیا کمار کہا جارہا ہے،چونکہ اس بار فیل تو ختم ہوگا کھیل۔
جے این یو طلبہ یونین کے سابق صدر اور کانگریس لیڈر کنہیا کمار بہار اسمبلی انتخابات 2025 سے عین قبل اچانک سرخیوں میں آگئے ہیں۔ کنہیا کمار نے 16 مارچ سے بہار میں ‘نوکری دو،پلائن روکو’ یاترا شروع کی ہے۔ کنہیا کمار کی یہ یاترا 4 ہفتوں میں 20 اضلاع سے ہوتے ہوئے 14 اپریل کو پٹنہ پہنچے گی۔ لیکن، بڑا سوال یہ ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دہلی کی شمال مشرقی سیٹ سے الیکشن لڑنے والے کنہیا کمار کو اچانک بہار میں کیوں اتارا گیا؟ کنہیا کمار کے ذریعے کیا کانگریس بہار میں مہا گٹھ بندھن میں اپنی طاقت دکھانا چاہتی ہے؟ کیا کنہیا کمار بہار کانگریس کو مضبوط کریں گے؟ کیا کانگریس کنہیا کمار کو بہار کا ریونتھ ریڈی بنانا چاہتی ہے؟ یا کنہیا کمار کے ذریعے کانگریس پارٹی بہار میں بی جے پی کی بنیادی ووٹر بھومیہار ذات پر قبضہ جمانا چاہتی ہے؟ یا کانگریس پارٹی نے کنہیا کمار کو اپنی صلاحیت دکھانے کا آخری موقع دیا ہے؟سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہےکہ بہار انتخابات سے عین قبل کنہیا کمار کو میدان میں اتار کر کانگریس نے نہ صرف آر جے ڈی کو چوکنا کردیا ہے بلکہ وہ بی جے پی کے بنیادی ووٹر بھومیہار ذات پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔ کنہیا کا تعلق بھی بھومیہار ذات سے ہے اور کہا جاتا ہے کہ جس پارٹی کو بھی اس ذات کے ووٹ ملتے ہیں، بہار میں حکومت اسی پارٹی کی بنتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کنہیا کمار ایک اچھے مقرر ہیں۔ نوجوانوں کے ایک حصے میں کنہیا کمار کی ایک الگ پہچان ہے۔اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس کنہیا کمار کو مہاگٹھ بندھن کی طرف سے نائب وزیر اعلیٰ کا امیدوار قرار دیتی ہے تو کانگریس پورے بہار میں بھومیہار برادری کے ووٹ بی جے پی سے توڑنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ پلائن روکو – نوکری دو یاترا کا زیادہ اثر نہیں ہونے والا ہے۔ ہاں بہار انتخابات سے پہلے میڈیا میں کچھ ماحول ضرور بنے گا۔
ان باتوں سے الگ ہٹ کر ایک بات یاد رکھئے کہ بہار کی سیاست ملک میں سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ بی جے پی ہندی ہارٹ لینڈ کے اس خاص ریاست کو ابھی تک اکیلے فتح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ کبھی اس صوبے میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہوا کرتی تھی، لیکن منڈل کی سیاست نے یہاں کانگریس کا صفایا کر دیا۔البتہ اب ایک بار پھر بہار اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کانگریس اور گاندھی خاندان یہاں جس طرح سرگرم نظر آ رہے ہیں، اس سے یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اس بار کانگریس بہا رمیں کچھ الگ کرنا چاہ رہی ہے۔لیکن جن لوگوں کو بہار کی سیاست کے بارے میں ذرا بھی علم ہے، وہ جانتے ہیں کہ اتر پردیش کی طرح یہاں بھی کانگریس بغیر سہارے کے ایک قدم بھی چلنے کو مجبور ہے۔ لیکن حوصلوں کی اڑان کو کون روک سکتا ہے۔لیکن خطرہ یہ ہے کہ اڑان تیجسوی کے پربھی کتر سکتا ہے اور اس میں اہم رول نبھا سکتے ہیں کنہیا کمار۔
یاد رہے کہ کنہیا کمار سے لالو یادو خاندان بہت پہلے سے ناراض رہتا ہے۔ اس کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔ ویسے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ لالو یادو نہیں چاہتے کہ بہار کی سیاست میں تیجسوی کے مقابلے میں کوئی کھڑا ہو۔ لیکن اس دلیل میں وزن نہیں لگتا۔ پھر بھی ایک بات تو سچ ہے کہ بہار کی سیاست میں لالو یادو کو کنہیا کمار بالکل پسند نہیں ہیں۔ دوسری طرف اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ بہار میں لالو کے بھروسے پر کانگریس کی سانسیں چلتی ہیں۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں مہاگٹھ بندھن نے کانگریس کو 70 سیٹیں دے کر ایک احسان ہی کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کانگریس 19 سیٹیں جیت سکی تھی۔ حالانکہ 2015 میں آر جے ڈی اور جے ڈی یو کی بدولت کانگریس 27 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس لیے ظاہر ہے کہ کانگریس بغیر سہارے کے آج بہار میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اگر یہ سب جانتے ہوئے بھی کانگریس آر جے ڈی کے سربراہ لالو یادو کی مرضی کے خلاف چلنا چاہتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کانگریس نے سوچ لیا ہے کہ دہلی کی طرح اسے اپنی جڑیں تلاش کرنی ہیں، چاہے اس کے لیے اس کا صفایا ہی کیوں نہ ہو جائے۔
بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کانگریس صرف دکھاوے کے لیے یہ بھرم بنا رہی ہے کہ وہ ریاست میں اکیلے انتخابات لڑ سکتی ہے۔ دراصل کہا جا رہا ہے کہ آر جے ڈی اس بار کانگریس کو مہاگٹھ بندھن میں 40 سے 50 سیٹیں دینے پر غور کر رہی ہے۔ لیکن کانگریس پچھلی بار کی طرح 70 سیٹوں سے کم لینے کو تیار نہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس اپنی مرضی کے مطابق سیٹوں کا انتخاب بھی کرنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ سمجھنا کہ صرف کچھ سیٹوں کے لیے کانگریس اکیلے انتخابات لڑنے کا ارادہ رکھتی ہے، آر جے ڈی کے لیے غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔
دہلی اسمبلی انتخابات میں اگر کانگریس عام آدمی پارٹی کے ساتھ مل کر لڑتی تو یقیناً فائدے میں رہتی۔ لیکن کانگریس نے عام آدمی پارٹی کے ساتھ مل کر لڑنے کے بجائے اکیلے انتخابات لڑ کر مستقبل پر توجہ دی۔ یہی حال وہ بہار میں بھی کر سکتی ہے۔ دراصل دہلی ہو یا بہار، دونوں ہی ریاستوں میں کانگریس کے بنیادی ووٹروں کے بھروسے پر ہی عام آدمی پارٹی اور آر جے ڈی مضبوط پارٹیاں بن گئیں۔اور ان دونوں پارٹیوں کی وجہ سے ہی کانگریس کی سیاسی حالت دہلی اور بہار میں بری طرح متاثر ہوگئی۔ لیکن کانگریس اب یہ بات سمجھ چکی ہے کہ اگر ان ریاستوں میں دوبارہ اقتدار میں آنا ہے تو اپنا آزادانہ وجود قائم کرنا ہوگا۔ آر جے ڈی کا پچھلگو بن کر بہار میں کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ چونکہ بی جے پی کو روکنے کے نام پر سب سے زیادہ نقصان کانگریس کا ہی ہو رہا ہے۔ کانگریس اب اس گھیرے سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ راہل گاندھی نے کچھ مہینے پہلے بہار یاترا کے دوران ریاست میں ہونے والی ذات پات کی مردم شماری کو فرضی قرار دے کر تیجسوی یادو کو یہ بتا دیا تھا کہ کانگریس اب پچھلگو پارٹی بن کر کام نہیں کرے گی۔
خیر،،،،کنہیا کمار کے علاوہ بہار میں اس بار ایک پپو فیکٹر بھی ہوسکتا ہے،پپو یادو کسی نہ کسی بہانے لالو خاندان پر طنز کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا لہجہ زیادہ سخت نہیں ہوتا۔ لوک سبھا انتخابات میں انہیں جو تکلیف آر جے ڈی کی طرف سے ملی تھی، وہ انہیں تنگ کرتی رہتی ہے۔ پپو یادو پورنیہ سیٹ سے مہاگٹھ بندھن کے ٹکٹ پر انتخابات لڑنا چاہتے تھے، لیکن آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کی ضد کی وجہ سے انہیں آزادانہ طور پر انتخاب لڑنا پڑا۔ تاہم، انہوں نے آر جے ڈی امیدوار بیما بھارتی کو ہرا دیا۔ لیکن تیجسوی یادو نے انہیں ہرانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ظاہر ہے کہ پپو یادو آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس کا بدلہ ضرور لینا چاہیں گے۔ بہار کی سیاست میں اب سب کو پتہ ہے کہ پپو یادو اور لالو خاندان کے درمیان گہری دشمنی ہے۔ اور ادھر کانگریس میں جس طرح پپو یادو اور کنہیا کمار کو اہمیت دی جا رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ اس بار مہاگٹھ بندھن کی پارٹیوں کے راستے بھی الگ ہو سکتے ہیں۔اور اگر ایسا ہوتا ہے تو نقصان سب کا ہوگا جس میں بی جے پی بھی شامل ہے۔اور یہ کیسے ہوگا اس کو بھی سمجھ لیتے ہیں ۔
دراصل بہار میں بی جے پی کے بنیادی ووٹر اعلیٰ ذات کے لوگ ہیں۔ اسی طرح کانگریس کے بھی بنیادی ووٹر اعلیٰ ذات کے ہیں۔ اگر کانگریس کے امیدوار اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور بی جے پی کا امیدوار کسی پسماندہ ذات سے ہے، تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک بڑا طبقہ جو بی جے پی کو ووٹ دینے والا تھا، وہ کانگریس کی طرف چلا جائے گا۔ اسی طرح مسلم اور دلت ووٹوں میں کانگریس کی حصہ داری بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر کانگریس مضبوط امیدوار اتارتی ہے تو آر جے ڈی کو مسلم اور دلت ووٹوں سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح کانگریس کا اکیلے انتخابات لڑنا نہ صرف آر جے ڈی بلکہ بی جے پی کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔لیکن اس فائدہ اور نقصان کے کھیل میں جس ایک شخص کی سیاسی گاڑی بری طرح پھنسی ہے وہ کنہیا کمار ہیں ،جن کے سامنے پورا بہار ہے ،اور اپنی صلاحیت منوانے کا یہ آخر ی موقع بھی ہے ،اگر یہاں فیل ہوئے تو پھر کانگریس جس تیزی سے سر پر بٹھاتی ہے تو اتنی ہی تیزی سے حاشیے پر بھی بھیج دیتی ہے ، اور یہ بات کنہیا کمار کو بھی معلوم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

