فائل فوٹو۔
کولکاتا کے ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی کے سبب دو بچوں سمیت پندرہ افراد کی ہلاکت کے بعد کولکاتا میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر بھر میں عمارتوں کی چھتوں پر واقع ریستورانوں اور کمرشل سیٹ اپ پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بلڈنگ ضابطہ 117/4 کے تحت، کے ایم سی روف ٹاپ ریسٹورنٹ مالکان کو باضابطہ نوٹس جاری کرے گا، جس میں انھیں فوری طور پر انھیں بند کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کاروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
مذکورہ ضابطے کے مطابق کسی بھی عمارت کی چھت تک تمام عمارت والوں کو مشترکہ رسائی ہوگی اور اسے کسی ذیل میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ کولکاتا کے میئر فرہاد حکیم نے شہری تحفظ کو یقینی بنانے میں شہریوں کی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہر چیز کے لیے صرف انتظامیہ کو جواب دہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ آج ہم واضح کر رہے ہیں کہ کوئی بھی چھت یا سیڑھیاں فروخت نہیں کر سکتا۔ روف ٹاپ کیفے اور غیر قانونی تعمیرات کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘
عوام کی حفاظت سے نہیں کیا جائے گا کوئی سمجھوتہ: میئر فرہاد حکیم
انھوں نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے حکم پر تمام اہم محکموں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی پیر اور منگل کو اجلاس کرے گی اور 15 روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔‘‘ میئر نے غیر قانونی گوداموں اور دھرم شالوں کے غیر مجاز تجارتی استعمال کے خلاف بھی انتباہ دیا اور آنے والے دنوں میں سخت قانونی کارروائی کا وعدہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عوام کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز کولکاتا کے مچھوا پٹی علاقے میں ایک ہوٹل میں خوفناک آگ لگنے سے ایک خاتون اور دو بچوں سمیت پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد مغربی بنگال حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے فوراً ہی ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

