بنگلورو میں گزشتہ 20 دنوں سے بڑھ رہے ہیں کووڈ کیسز
بنگلورو: کرناٹک کے محکمہ صحت نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلورو میں گزشتہ 20 دنوں سے کووڈ-19 کے پھیلاؤ میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ریاست کے وزیر صحت دنیش گنڈو راؤ نے جمعہ کے روز کہا، ’’اس سال ہم نے کرناٹک میں اب تک 35 کووڈ کیسز دیکھے ہیں، جن میں سے 32 بنگلورو کے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 20 دنوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے، حالانکہ، کوئی تشویشناک کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے اس لیے عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کووڈ-19 پروٹوکول پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین، بچوں، قوت مدافعت سے محروم افراد اور مخلتف امراض میں مبتلا افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پرہجوم علاقوں میں جاتے وقت ماسک پہنیں۔
وزیر نے کہا کہ ہینڈ سینیٹائزر کے استعمال جیسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید سانس کی بیماریوں (SARI) میں مبتلا افراد کو بروقت علاج حاصل کرنے اور کووڈ کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کووڈ ٹیسٹ کروانے پر غور کرنا چاہیے۔
اس دوران، محکمہ صحت کے حکام نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ بنگلورو میں ایک نو ماہ کے بچے کا کووڈ 19 کے لیے پازیٹیو ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ بچے کے ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کی رپورٹ 22 مئی کو پازیٹیو آئی تھی۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بچہ بغیر کسی پیچیدگی کے محفوظ ہے اور فی الحال بنگلورو کے وانی ولاس اسپتال میں زیر علاج ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بچہ بنگلورو کے مضافات میں ہوسکوٹ ٹاؤن کا رہنے والا ہے۔
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جمعہ کی صبح مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ ملک میں کووڈ 19 کے معاملات میں اضافے کے درمیان احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سی ایم سدارامیا نے سنگاپور اور ہانگ کانگ جیسے ممالک میں کووڈ 19 کے معاملات میں اضافے کا حوالہ دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہاں بھی کووڈ 19 کے معاملات میں اضافے کا امکان ہے۔ مرکزی حکومت کو بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے فوری فیصلے کرنے اور احتیاطی اقدامات کرنے چاہئیں‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


