Bharat Express DD Free Dish

Jeet Adani at AI Summit: جیت اڈانی کا اے آئی سمٹ میں خطاب،’اے آئی صدی‘ کیلئے تین بنیادی ستونوں کی نشاندہی، 100 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان

جیت اڈانی نے اعادہ کیا کہ اڈانی گروپ ملک کے لیے خودمختار، سبز توانائی سے چلنے والا اے آئی انفراسٹرکچر پلیٹ فارم قائم کرنے کے لیے 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے۔

نئی دہلی: جیت اڈانی، ڈائریکٹر اڈانی ڈیجیٹل لیبز نے جمعرات کو ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ’اے آئی صدی‘ تین فیصلہ کن ستونوں پر قائم ہوگی: توانائی کی خودمختاری، کمپیوٹ اور کلاؤڈ کی خودمختاری، اور خدماتی خودمختاری۔ جیت اڈانی نے تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجلی نے صنعت کو طاقت دی، تیل نے عالمی سیاست کو نئی شکل دی اور انٹرنیٹ نے تجارت کو بدل دیا، جبکہ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس خودمختاری کی نئی تعریف طے کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے ملک بھارت کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ ہم اے آئی اپنائیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ذہانت درآمد کریں گے یا خود اس کی تعمیر کریں گے؟ کیا ہم صرف پیداواری صلاحیت استعمال کریں گے یا اسے تخلیق بھی کریں گے؟ کیا ہم کسی اور کے نظام سے جڑیں گے یا اپنا نظام خود بنائیں گے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت غلبہ پانے کے لیے نہیں بلکہ استحکام پیدا کرنے اور توازن تلاش کرتی دنیا کو سہارا دینے کے لیے ابھر رہا ہے، اور ایسے نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو جامع اور پائیدار ہوں۔

پہلا ستون: توانائی ہی ذہانت کی بنیاد

جیت اڈانی نے کہا کہ اے آئی کوڈ میں لکھی جاتی ہے مگر چلتی بجلی پر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اعلیٰ درجے کے پروسیسرز زیادہ حرارت پیدا کرتے ہیں اور بجلی کی معمولی خرابی بھی نظام کی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’’اگر کسی قوم کا توانائی نظام کمزور ہو تو اس کا ذہانت کا نظام بھی کمزور ہوگا۔ آج کے اے آئی دور میں پاور گرڈ اور ڈیٹا گرڈ ایک دوسرے سے جدا نہیں رہے۔‘‘ ان کے مطابق بھارت کی شمسی، ہوائی اور ذخیرہ توانائی میں توسیع اب صرف ماحولیاتی پالیسی نہیں بلکہ اسٹریٹجک انفراسٹرکچر پالیسی بن چکی ہے، اور توانائی کی سلامتی ہی ذہانت کی سلامتی کے برابر ہوگی۔

دوسرا ستون: کمپیوٹ اور کلاؤڈ کی خودمختاری

انہوں نے کہا کہ اگر توانائی ایندھن ہے تو کمپیوٹ فیکٹری ہے۔ ماضی میں ممالک اسٹیل پلانٹس اور شپ یارڈ بناتے تھے، بعد میں سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام قائم کیے گئے، اور اب اے آئی دور میں خودمختار کمپیوٹ صلاحیت اسٹریٹجک انفراسٹرکچر بن چکی ہے۔ جیت اڈانی کے مطابق کلاؤڈ خودمختاری کا مطلب تنہائی نہیں بلکہ خود انحصاری ہے۔ بھارت کو اپنے اہم اے آئی ورک لوڈز ملک کے اندر میزبانی کرنی چاہیے، بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے چاہئیں اور اسٹارٹ اپس، تعلیمی اداروں، دفاع، صحت اور صنعت کو اعلیٰ کارکردگی کی کمپیوٹنگ تک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا: ’’اگر ذہانت کا انفراسٹرکچر بیرونِ ملک مرتکز ہوگا تو اسٹریٹجک اختیار بھی بیرونِ ملک مرتکز ہو جائے گا۔‘‘

تیسرا ستون: خدماتی خودمختاری

جیت اڈانی نے کہا کہ بھارت کی آئی ٹی انقلاب نے ملک کو عالمی ڈیجیٹل خدمات کا مرکز بنایا، لیکن اس کی زیادہ تر پیداواری قدر بیرونِ ملک منتقل ہوئی۔ اے آئی انقلاب بھارت کو ایک صدی میں ایک بار ملنے والا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس توازن کو بدل سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کا اے آئی سب سے پہلے ملکی پیداواریت میں اضافہ کرے، زرعی استحکام مضبوط بنائے، تعلیم کو بڑے پیمانے پر شخصی نوعیت دے، لاجسٹکس اور بندرگاہی نظام بہتر بنائے اور توانائی کی تقسیم میں کارکردگی بڑھائے۔ انہوں نے کہا ’’اے آئی پہلے بھارتی شہریوں کے لیے قوتِ ضرب بنے، پھر دوسروں کے لیے۔ یہ تحفظ پسندی نہیں بلکہ تیاری ہے، یہ تنہائی نہیں بلکہ اسٹریٹجک پختگی ہے۔‘‘

100 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان

جیت اڈانی نے اعادہ کیا کہ اڈانی گروپ ملک کے لیے خودمختار، سبز توانائی سے چلنے والا اے آئی انفراسٹرکچر پلیٹ فارم قائم کرنے کے لیے 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read