Bharat Express DD Free Dish

Crorepati beggar Mangi Lal: اندور کا بھکاری مانگی لال نکلا کروڑوں کا مالک، بھیک سے کمائی گئی رقم پر کرتا تھا سود پر کاروبار

اندور کے سرافہ علاقے میں بھیک مانگنے والا مانگی لال کروڑوں کی جائیداد کا مالک نکلا۔ بھیک مٹاؤ مہم کے دوران انتظامیہ نے اس کے مکان، آٹو اور گاڑی کا انکشاف کیا۔

اندور کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والے ایک بھکاری کی حیران کن حقیقت سامنے آئی ہے۔ اندور کے سرافہ علاقے میں طویل عرصے سے بھیک مانگنے والا مانگی لال دراصل کروڑوں کی جائیداد کا مالک نکلا ہے۔

روزانہ 500 سے 1000 روپے کی کمائی

خواتین و بچوں کی ترقی کے محکمہ کی جانب سے چلائی جانے والی بھیک مٹاؤ مہم کے دوران جب مانگی لال کا ریسکیو کیا گیا، تو نہ صرف اہلکار بلکہ عام لوگ بھی حیران رہ گئے۔ سرافہ کی گلیوں میں لکڑی کی سلائیڈ والی گاڑی، پیٹھ پر بیگ اور ہاتھ میں جوتے کے ساتھ لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے والا مانگی لال روزانہ تقریباً 500 سے 1000 روپے کماتا تھا۔ وہ بغیر کچھ کہے لوگوں کے پاس کھڑا ہو جاتا اور لوگ خود ہی اسے پیسے دے دیتے تھے۔

کروڑوں کی جائیداد

پوچھ گچھ میں مانگی لال نے قبول کیا کہ بھیک سے حاصل شدہ پیسوں کو وہ سرافہ علاقے کے کچھ تاجروں کو سود پر قرض دینے میں استعمال کرتا تھا۔ وہ روزانہ سود وصول کرنے کے لیے سرافہ آتا تھا۔ ریسکیو ٹیم کے نوڈل افسر دنیش مشرا کے مطابق، مانگی لال کے پاس شہر کے مختلف علاقوں میں تین پکے مکان ہیں: بھگت سنگھ نگر میں 16 بائی 45 فٹ کا تین منزلہ مکان ہے تو وہیں شیونگر میں 600 اسکوائر فٹ کا دوسرا مکان ہے ۔ الوَاس گاؤں میں 10 بائی 20 فٹ کا ون بی ایچ کے مکان، جو حکومت کی جانب سے ریڈ کراس کی مدد سے معذوری کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، مانگی لال کے پاس تین آٹو ہیں جنہیں وہ کرائے پر چلاتا ہے، اور ایک ڈیزائر کار بھی ہے جس کے لیے اس نے ڈرائیور رکھا ہوا ہے۔ وہ الوَاس میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے۔

بھکاریوں کے خلاف سخت کارروائی

محکمہ خواتین و بچوں کی ترقی نے اندور میں فروری 2024 سے بھیک مٹاؤ مہم شروع کی ہے۔ ابتدائی سروے میں 6,500 بھکاری سامنے آئے، جن میں سے 4,500 کی کونسلنگ کر کے بھیک مٹائی گئی۔ 1,600 بھکاریوں کو ریسکیو کر کے اججین کے سیوا دھام آشرم بھیجا گیا، جبکہ 172 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ بھیک مانگنے والوں اور اسے فروغ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read