بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی (Arbitration) کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ایک نئے قانونی و اخلاقی چیلنج کو جنم دیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں بدعنوانی یا دھوکہ دہی کا شبہ ہو لیکن اسے باضابطہ طور پر پیش نہ کیا جائے تو ثالث اور عدالتوں کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ اسی مرکزی موضوع پر ’’سینٹر فار انٹرنیشنل لیگل اسٹڈیز‘‘ (سی آئی ایل ایس) کے زیراہتمام ایک پینل مذاکرے میں چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوائی نے کلیدی خطاب کیا۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ بین الاقوامی ثالثی میں بدعنوانی کے شبہات: ثالث کیا کریں اور عدالتیں کہاں تک مداخلت کریں؟چیف جسٹس گوئی نے کہا کہ جہاں ثالثی کو مؤثر، جلد اور غیر رسمی طریقہ سمجھا جاتا ہے، وہاں یہ ہرگز کرپشن کو چھپانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، خاص طور پر جب معاملے میں ریاست فریق ہو اور عوامی فنڈز داؤ پر لگے ہوں۔ ذیل میں پیش ہیں ان کی گفتگو سے کچھ اہم نکات:
تاریخی پس منظر اور عدالتی رویہ
بھارت میں ماضی میں عدالتیں اس بات پر محتاط رہی ہیں کہ ثالثی کو دھوکہ دہی سے متعلق معاملات میں اختیار دیا جائے یا نہیں۔ 1962 کے معروف مقدمے عبدالقادر شمس الدین ببر بنام مادھو اوک میں عدالت نے ایسے معاملات کو کھلی عدالتی سماعت کے لیے زیادہ موزوں قرار دیا۔ تاہم وقت کے ساتھ عدالتی موقف میں بڑی تبدیلی آئی۔ 2014 میں سوئس ٹائمنگ بنام آرگنائزنگ کمیٹی کے فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ دھوکہ دہی کے محض الزامات ہی ثالثی کو غیر مؤثر نہیں بناتے، جب تک وہ ثالثی کی شق کو ہی غیر مؤثر نہ کریں۔
مزید برآں اوٹل پوسٹ اسٹوڈیوز بمقابلہ ایچ ایس بی سی کیس (2020) میں سپریم کورٹ نے طے کیا کہ صرف وہی مقدمات ثالثی سے خارج کیے جا سکتے ہیں جن میں ریاستی عناصر یا پبلک پالیسی کی سنگین خلاف ورزی ہو۔
ICC کی 2024 رپورٹ اور ’’ریڈ فلیگز‘‘
بین الاقوامی چیمبر آف کامرس (ICC) کی حالیہ رپورٹ میں ثالثوں کے لیے ایک تین مرحلہ جاتی طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت وہ کرپشن کے ’’ریڈ فلیگز‘‘ یعنی مشتبہ علامات کی شناخت، توثیق اور قانونی تجزیہ کر سکیں۔ لیکن رپورٹ نے یہ بھی تنبیہ کی ہے کہ ثالثوں کو نہ تو اپنی حدود سے تجاوز کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی مبہم شبے پر کارروائی کرنی چاہیے جو کہ فیصلے کو غیر مؤثر بنا سکتی ہے۔
عدالتوں کا کردار اور ثالثوں کی ذمہ داریاں
رپورٹ کے مطابق ثالثوں کے لیے لازم ہے کہ وہ بدعنوانی کے شبے کی صورت میں کم از کم قانونی معیارات کو مدِنظر رکھیں، جیسے:
۱۔ ریڈ فلیگز کی قانونی توثیق
۲۔ فریقین کو مؤثر صفائی کا موقع دینا
۳۔ غیر ضروری تحقیقات سے گریز
۴۔ عدالتی مدد لینا جب گواہوں یا شواہد تک رسائی ممکن نہ ہو
اس کے برعکس عدالتیں بھی ثالثی فیصلوں کی جانچ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جیسا کہ 2023 کے نائجیریا-Process and Industrial Developments مقدمے میں دیکھنے کو ملا جہاں ثالثی فیصلہ کرپشن کے ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
