راجیہ سبھا کے رکن اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہ بھارت خود انحصاری کی راہ پر مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں ملک میں روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے سات برسوں میں یوگی حکومت نے آٹھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمتیں فراہم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، جب کہ لاکھوں نوجوانوں کو نجی شعبے اور خود روزگار کے مواقع بھی میسر آئے ہیں۔ لکھنؤ کے اندرا گاندھی پرتشٹھان میں منعقدہ ’’روزگار مہاکمبھ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ریاست کا نوجوان اب صرف ملازمت تلاش کرنے والا نہیں، بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بھی بن رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی میں پیشہ ورانہ تعلیم پر زور دے کر نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
دریں اثنا امریکی ٹیرف پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ بھارت پر تجارتی دباؤ کے باوجود ملک کی معیشت مستحکم ہے۔ انھوں نے کہا کہ صرف بھارت کی آدھی برآمدات ہی امریکی ٹیرف سے متاثر ہوں گی اور حکومت نے دیگر ممالک سے آزاد تجارتی معاہدے کر کے نقصانات کی تلافی کا انتظام کیا ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ زراعت اور کسانوں کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج بھارت میں فی کس آمدنی 2 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ 2014 میں یہ صرف 86 ہزار روپے سالانہ تھی۔
ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ یوپی میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے، 21 ہوائی اڈے فعال ہو چکے ہیں، ایکسپریس ویز اور میٹرو نیٹ ورک ریاست کو ترقی کی نئی راہ پر لے جا رہے ہیں۔ لکھنؤ ایک تعلیمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں بیرون ملک سے بھی طلبہ تعلیم کے لیے آ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کا بھارت مدد فراہم کرنے والا ملک ہے۔ غریبوں کو مفت راشن، آواس، گیس چولہا، اور کسانوں کو مالی امداد مل رہی ہے۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے نوجوانوں کے لیے صرف نوکری نہیں بلکہ خود روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں۔ اس پروگرام میں آئی اے ایس نیہا پرکاش اور ابھیشیک بھارتی بھی موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


