Bharat Express DD Free Dish

India and MoldovaTrade: بھارت اور مالدووا کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں: دروپدی مرمو

صدر مرمو نے تعلیم اور صلاحیت سازی کو بھارت-مالدووا تعلقات کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں تعلیمی تبادلوں اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالدووا کے پیشہ ور افراد کے لیے آئی ٹی ای سی  (آئی ٹی ای سی)   تربیتی نشستوں کی تعداد دوگنی کی جائے گی،

نئی دہلی : بھارت کی صدر دروپدی مرمو اپنے سرکاری دورے پر مالدووا پہنچ گئی ہیں، جہاں انہوں نے دارالحکومت چیسیناؤ کے صدارتی محل میں مالدووا کی صدر مایا ساندو سے ملاقات کی۔ دونوں لیڈروں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرمو نے کہا کہ بھارت اور مالدووا نے تجارت، سرمایہ کاری، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور باہمی رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔صدر دروپدی مرمو نے پرتپاک استقبال پر صدر مایا ساندو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی بھارتی صدر کا مالدووا کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، دوستی اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

صدر مرمو نے کہا کہ بھارت اور مالدووا کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ جغرافیائی فاصلے کے باوجود امن، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے لیے مشترکہ عزم نے دونوں ممالک کی شراکت داری کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں  لیڈروں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور عوام کی خوشحالی، ترقی اور فلاح و بہبود سے متعلق شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون دونوں ممالک کی شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔ اسی تناظر میں تجارت، سرمایہ کاری، سپلائی چین اور رابطہ کاری کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت، لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچے، صحت، دواسازی، قابل تجدید توانائی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اختراعات جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

صدر مرمو نے تعلیم اور صلاحیت سازی کو بھارت-مالدووا تعلقات کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں تعلیمی تبادلوں اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالدووا کے پیشہ ور افراد کے لیے آئی ٹی ای سی  (آئی ٹی ای سی)   تربیتی نشستوں کی تعداد دوگنی کی جائے گی، جن میں مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق خصوصی کورسز بھی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ مالدووا کے سفارت کاروں کو بھارت کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں اے آئی اور سائبر ڈپلومیسی کے خصوصی کورسز میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی ہے۔

صدر مرمو نے کہا کہ انٹرنیشنل سولر الائنس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں پیش رفت ہو رہی ہے، جبکہ انہیں امید ہے کہ مالدووا جلد ہی کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر اور گلوبل بایوفیولز الائنس میں بھی شامل ہوگا۔علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر مرمو نے کہا کہ دونوں  لیڈروں نے امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مالدووا کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read