Bharat Express DD Free Dish

India and China why are they not part of G7: دنیا کی ٹاپ 4 معیشتوں میں بھارت اور چین شامل، پھر بھی G7 کا حصہ کیوں نہیں؟

وزیر اعظم نریندر مودی جی7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کینیڈا میں موجود ہیں۔ بھارت اگرچہ اس کا باضابطہ رکن نہیں ہے، مگر 2003 سے آؤٹ ریچ پارٹنر کے طور پر اس میں شامل ہوتا رہا ہے۔ جی7 کا قیام 1975 میں عمل میں آیا تھا، مگر آج بھی بھارت اور چین اس کا حصہ نہیں ہیں، حالانکہ یہ دونوں ممالک دنیا کی چار بڑی معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی جی7 سمٹ میں شرکت کے لیے کینیڈا پہنچے ہیں۔ بھارت اس گروپ کا باضابطہ رکن نہیں ہے، مگر کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی دعوت پر وزیر اعظم مودی اس میں شریک ہو رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کوئی بھارتی وزیر اعظم اس اجلاس میں شریک ہوا ہو۔ 2003 سے بھارت اس اجلاس میں آؤٹ ریچ پارٹنر کے طور پر شرکت کرتا آ رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی اور چوتھی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود بھارت آج بھی جی7 کا باقاعدہ رکن نہیں بن سکا ہے۔

جی7 ترقی یافتہ ممالک کا ایک گروپ ہے۔ اس میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، امریکہ اور جاپان شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین بھی اس کا رکن نہیں ہے۔ جی7 کا قیام 1970 کی دہائی میں عالمی اقتصادی پالیسی کے باہمی ربط کے لیے ہوا تھا، مگر حالیہ برسوں میں اس کا دائرہ کار وسعت اختیار کر چکا ہے اور اب یہ ماحولیاتی تبدیلی، سلامتی، ترقی اور ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کرتا ہے۔

G6 سے ہوا تھا آغاز

اس کی شروعات 1975 میں G6 کے طور پر ہوئی تھی۔ 1976 میں کینیڈا کی شمولیت کے بعد یہ G7 بن گیا۔ 1997 میں روس کے شامل ہونے کے بعد یہ G8 کہلایا، تاہم 2014 میں کریمیا پر قبضے کے بعد روس کو اس سے خارج کر دیا گیا۔

جی7 سربراہی اجلاس سات ممالک کے سربراہان مملکت یا حکومت کا سالانہ اجلاس ہوتا ہے۔ یہ ایک اعلیٰ سطحی پلیٹ فارم ہے۔ اجلاس کے دوران رہنما معیشت، ماحولیاتی تبدیلی، عالمی صحت، تنازعات اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات پر بند کمرے میں بات چیت کرتے ہیں۔ ہر سال ایک مختلف ملک جی7 اجلاس کی میزبانی کرتا ہے اور وہی میزبان ملک ایجنڈا طے کرتا ہے اور دیگر ممالک کو مدعو کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

بھارت کو 2003 میں پہلا دعوت نامہ ملا تھا

بھارت کو اب تک 10 سے زائد مرتبہ جی7 سربراہی اجلاس میں مدعو کیا جا چکا ہے۔ پہلا دعوت نامہ 2003 میں ملا تھا، جب اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی مہمانِ خصوصی کے طور پر فرانس میں منعقدہ اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ 2005 سے 2009 تک اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ ہر سال اس اجلاس میں شامل ہوتے رہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی 2019 سے ہر سال جی7 اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہیں فرانس (2019)، امریکہ (2020، تاہم وہ اجلاس منسوخ ہو گیا تھا)، برطانیہ (2021، ورچوئل)، جرمنی (2022)، اور جاپان (2023) میں مدعو کیا گیا۔

بھارت اور چین کیوں نہیں شامل؟

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب بھارت اور چین دنیا کی ٹاپ 4 معیشتوں میں شامل ہیں، تو پھر یہ جی7 کا حصہ کیوں نہیں ہیں؟ چین کی عالمی معیشت میں اہم موجودگی کے باوجود اسے G7 میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ دراصل، دنیا کی دیگر بڑی معیشتوں کے مقابلے چین میں فی کس آمدنی کا سطح نسبتاً کم ہے، اسی لیے وہ جی7 کا رکن نہیں ہے۔

چین جی7 پر سوالات بھی اٹھاتا رہا ہے۔ گزشتہ برس اجلاس کے دوران چین نے کہا تھا کہ موجودہ عالمی تناظر میں جی7 کی ساخت اور اہمیت باقی نہیں رہی۔ چین کا کہنا تھا کہ جی7 دنیا کی نمائندگی نہیں کرتا کیونکہ دنیا کی کل آبادی میں ان سات ممالک کا حصہ صرف 10 فیصد ہے، اور یہ ممالک مشترکہ طور پر بھی چین کے مقابلے عالمی اقتصادی ترقی میں کم کردار ادا کرتے ہیں۔

چین کی طرح بھارت میں بھی فی کس آمدنی ان سات ممالک کے مقابلے بہت کم ہے۔ جب جی7 قائم ہوا تھا، اس وقت بھارت ایک ترقی پذیر ملک تھا اور غربت کا شکار تھا۔ جی7 کا قیام ان ترقی یافتہ ممالک کے لیے ہوا تھا جن کی معیشتیں عالمی سطح پر مستحکم تھیں۔ اس وقت بھارت اس معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ آج بھی جی7 اپنے گروپ کو وسعت نہیں دیتا، اور نئے اراکین کو شامل نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اور چین اس گروپ کے رکن نہیں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read