ایودھیا: رام مندر میں چڑھاوے کی رقم میں مبینہ بے ضابطگی کے تنازع کے درمیان اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے رائے نے الزام عائد کیا ہے کہ رام مندر جانے سے پہلے ہی پولیس نے انہیں نظر بند کر دیا۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں آچاریہ نریندر دیو یونیورسٹی کے مہمان خانے میں بند رکھا گیا ہے اور کانگریس لیڈران کو ذہنی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
مہمان خانے میں بند رکھنے کا دعویٰ
ویڈیو پیغام میں اجے رائے نے کیمرے کے ذریعے مہمان خانے کے مناظر دکھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک کمرے میں اکیلا بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمرے کا دروازہ باہر سے بند ہے اور متعدد کوششوں کے باوجود وہ اسے کھول نہیں پا رہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مہمان خانے کے باہر لگی گرِلیں بھی بند کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اجے رائے کا ذہنی ہراسانی کا الزام
اجے رائے نے کہا کہ انہیں مکمل طور پر ذہنی اذیت دی جا رہی ہے اور ان کی خیریت دریافت کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھگوان رام کے درشن کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے اور اپنے اس عزم پر قائم ہیں۔
ریاستی حکومت پر امتیازی سلوک کا الزام
ویڈیو پیغام میں اجے رائے نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال کو ایودھیا بلا کر رام للا کے درشن کرائے جاتے ہیں اور انہیں تمام وی آئی پی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ دوسری طرف کانگریس لیڈران کو رام مندر جانے سے روکا جا رہا ہے۔
دیگر کانگریسی لیڈران کو بھی نظر بند کرنے کا دعویٰ
اجے رائے نے الزام لگایا کہ کانگریس کے وفد میں شامل کشوری لال، اجول رمن، راکیش راٹھور، تنوج پونیا، سابق رکن قانون ساز کونسل دیپک سنگھ، اے پی گوتم، رکن اسمبلی وریندر چودھری، سابق رکن اسمبلی میتا گوتم سمیت کئی دیگر لیڈران کو بھی ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کانگریس لیڈران کو رام مندر جانے سے روکنے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


