Bharat Express DD Free Dish

NIA will Investigate Pahalgam Terrorist Attack: پہلگام دہشت گردانہ حملے کی جانچ کرے گی این آئی اے، وزارت داخلہ نے دیا حکم

ہندوستانی حکومت کی وزارت داخلہ کی طرف سے احکامات جاری ہونے کے بعد باضابطہ طورپر این آئی اے نے اس معاملے میں معاملہ درج کرلیا ہے۔ اب اس معاملے کی جانچ این آئی اے کرے گی اور جموں وکشمیر پولیس سمیت دیگر ایجنسی این آئی اے کا تعاون کریں گی۔

وزارت داخلہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی جانچ این آئی اے کے حوالے کردی ہے۔

جموں وکشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد کی موت کے معاملے کی جانچ اب قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کرے گی۔ پہلگام حملے کے بعد سے ہی پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے ہی این آئی اے کی ٹیم واردات کی جگہ پر موجود ہے، جس میں فورنسک ٹیم اور انویسٹیگیٹو ٹیم شامل ہیں۔ ہندوستانی حکومت کے وزارت داخلہ کی طرف سے احکامات جاری ہونے کے بعد باضابطہ طور پراین آئی اے نے اس معاملے میں کیس درج کرلیا ہے۔ اب اس معاملے کی جانچ این آئی اے کرے گی اور جموں وکشمیر پولیس سمیت دیگرایجنسی این آئی اے کا تعاون کریں گی۔

ثبوت جمع کرنے میں لگی ہے این آئی اے

پی ٹی آئی کے مطابق، این آئی اے کی ٹیم پہلگام دہشت گردانہ حملے کے متاثرین سے ملاقات کرکے ثبوت جمع کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ این آئی اے کی خصوصی ٹیم نے دہشت گردانہ حملے میں زندہ بچے سیاحوں سمیت عینی شاہدین سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہیں، بغیرپائلٹ کے فضائی گاڑیاں (یواے وی) اورڈرون جیسے جدید ترین آلات سے لیس جموں وکشمیرپولیس، فوج اورنیم فوجی دستے پیرپنجال رینج کے گھنے جنگلات میں عسکریت پسندوں کی تلاش میں اپنا وسیع آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ این آئی اے کی ٹیموں نے ایسے سراغوں کی تلاش میں بچ جانے والوں سے بات چیت شروع کردی ہے، جو ان دہشت گردوں کوپکڑنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

چشم دیدوں سے رابطہ کررہی ہے این آئی اے

افسران نے بتایا کہ ٹیموں نے منگل کو چشم دیدوں سے رابطہ کرنا شروع کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، فوج اورسی آر پی ایف کے سخت آپریشن کی وجہ سے پچھلے کچھ دنوں میں جنوبی اورشمالی کشمیرمیں کچھ انکاؤنٹرہوئے ہیں اورجمعہ کے روزلشکر طیبہ کے اعلی کمانڈرالطاف لالی کوضلع باندی پورہ میں مارا گیا تھا۔ پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ اس معاملے کی ابتدائی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں شامل دہشت گردوں کی تعداد پانچ سے سات ہوسکتی ہے۔

افسران نے بتایا کہ انہیں پاکستان میں ٹریننگ حاصل کرکے کم ازکم دو مقامی دہشت گردوں سے مدد ملی تھی۔ افسران کے مطابق، دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر، اہم ملزم عادل تھوکرعرف عادل گوری ساکن بجبہاڑہ اورترال کے رہنے والے آصف شیخ کا کردارسامنے آیا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ عادل تھوکر2018 میں پاکستان چلا گیا تھا، جہاں اس نے ممنوعہ لشکرطیبہ کے ساتھ مسلح تربیت حاصل کی اورپھرحملے کرنے کے لئے بھارت واپس آ گیا۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read