Bharat Express DD Free Dish

Home loans set to fall to historic low: شرح سود میں کمی کے بعد ہاؤس لون کی شرح 7.1 فیصد کی تاریخی سطح تک گرنے کا امکان

آر بی آئی نے ریپو ریٹ میں 0.25 فیصد کمی کی، صارفین کو EMI میں ریلیف۔ ماہرین کے مطابق نئے قرض داروں کو 7.1 فیصد کی شرح سے ہاؤس لون فراہم کرنے کے لیے بینکوں کو یا تو ڈپازٹ شرحیں کم کرنی ہوں گی یا بینچ مارک ریٹ پر اسپریڈ میں تبدیلی لانا ہوگی۔

ممبئی: ہوم لون کی شرحیں ایک بار پھر کورونا وبا کے دوران دیکھے گئے کم ترین سطح کے قریب پہنچنے والی ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مونیٹری پالیسی کمیٹی نے ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کرکے اسے 5.25 فیصد تک کر دیا ہے، جس کے بعد ہوم لون کی شرحیں مزید کم ہونے کی توقع ہے۔

موجودہ ہوم لون شرحوں میں کمی کا امکان

اس وقت یونین بینک، بینک آف انڈیا، بینک آف مہاراشٹر اور انڈین اوورسیز بینک تقریباً 7.35 فیصد کی شرح پر ہوم لون فراہم کررہے ہیں۔ شرح سود میں کمی کے بعد یہ شرح 7.1 فیصد تک گر سکتی ہےجو کہ کچھ نجی بینکوں کی ڈپازٹ شرح کے برابر ہے۔ تقریباً 1 کروڑ روپے کے 15 سالہ ہوم لون پر 0.25 فیصد شرح سود کی کمی سے EMI میں ہر ماہ تقریباً 1,440 روپے کی کمی ہوگی، جو صارفین کے لیے بڑا ریلیف ہے۔

بینکوں کو حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی

ماہرین کے مطابق نئے قرض داروں کو 7.1 فیصد کی شرح سے ہاؤس لون فراہم کرنے کے لیے بینکوں کو یا تو ڈپازٹ شرحیں کم کرنی ہوں گی یا بینچ مارک ریٹ پر اسپریڈ میں تبدیلی لانا ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو امکان ہے کہ نئے قرض لینے والوں پر شرح سود موجودہ فلوٹنگ ریٹ صارفین سے زیادہ لگے۔ جب تک ڈپازٹ کی شرحیں کم نہیں ہوتیں، بینکوں کا نیٹ انٹرسٹ مارجن متاثر ہوگا، لیکن نان بینکنگ فنانس کمپنیاں (NBFCs) فوری فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

شری  رام فنانس کے ایگزیکٹو نائب چیئرمین اومیش ریونکر نے کہا: ’’یہ پالیسی NBFC سیکٹر کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔ آر بی آئی کی نیوٹرل پالیسی اور ایک لاکھ کروڑ روپے کے OMO خریداری پروگرام کا اعلان مارکیٹ میں مناسب لیکویڈیٹی برقرار رکھے گا۔ شرح سود میں کمی تیزی سے عام صارف تک منتقل ہوگی، جس کا فائدہ چھوٹے ٹرک آپریٹرز، دیہی کاروباری اور MSME طبقہ کو ملے گا—جو ملک کی 8.2 فیصد معاشی ترقی کے اہم محرک ہیں۔‘‘

قرض کی طلب اور ترجیحات میں تبدیلی

بینکاروں کے مطابق شرح سود میں کمی بینکوں کو زیادہ چھوٹے کاروباری قرضوں کی طرف لے جائے گی کیونکہ یہ سیکٹر زیادہ منافع دیتا ہے۔ بڑے کارپوریٹ ادارے پہلے ہی بینکوں سے ہٹ کر بانڈز اور ایکویٹی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کر رہے ہیں۔ ایک نجی بینک کے کریڈٹ سربراہ کے مطابق: ’’RBI کے تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ کریڈٹ گروتھ کا اصل ذریعہ MSME اور ریٹیل سیکٹر ہے۔‘‘

بینک محتاط، غیر یقینی ماحول میں محفوظ قرض ترجیح

اگرچہ بینک زیادہ منافع والے قرضے تلاش کر رہے ہیں، مگر خطرہ بدستور موجود ہے۔ آر بی آئی کی کریڈٹ رپورٹ کے مطابق بینک اب گولڈ لون، آٹو لون اور دیگر سیکورڈ قرضوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ غیر محفوظ ذاتی قرضوں سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read