Bharat Express DD Free Dish

Health Warning: کہیں آپ بھی تو نہیں کھا رہے یہ والا بھُنا چنا؟ اس سے کینسر کا خطرہ، گورکھپور میں 750 بوریاں ضبط

عام طور پر صحت کے حوالے سے باشعور لوگ پیکٹ بند اسنیکس کے بجائے بھُنا چنا کو ایک محفوظ اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، لیکن اتر پردیش کے گورکھپور سے سامنے آنے والی ایک چونکا دینے والی خبر نے اس تصور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ گورکھپور میں محکمۂ خوراک نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 750 بوریاں زہریلا بھُنا چنا ضبط کیا ہے، جسے کھانے کے قابل نہیں مانا جا رہا۔

گورکھپور: عام طور پر صحت کے حوالے سے باشعور لوگ پیکٹ بند اسنیکس کے بجائے بھُنا چنا کو ایک محفوظ اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، لیکن اتر پردیش کے گورکھپور سے سامنے آنے والی ایک چونکا دینے والی خبر نے اس تصور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ گورکھپور میں محکمۂ خوراک نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 750 بوریاں زہریلا بھُنا چنا ضبط کیا ہے، جسے کھانے کے قابل نہیں مانا جا رہا۔ یہ چنا کپڑوں کو رنگنے والی خطرناک کیمیکل ڈائی سے رنگا گیا تھا، جو انسانی صحت کے لیے نہایت مہلک ہے۔ محکمۂ خوراک کی ٹیم نے گورکھپور کے راج گھاٹ علاقے میں واقع ”میسرس ماں تارا ٹریڈرس“ کے گودام پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران گودام سے بھاری مقدار میں بھُنا چنا برآمد ہوا۔ جانچ میں انکشاف ہوا کہ اس چنے کو زیادہ پرکشش اور شوخ پیلا دکھانے کے لیے اس میں ’سنتھیٹک ییلو ڈائی‘ ملائی گئی تھی۔ یہ وہی کیمیکل ہے جو کپڑوں کو رنگنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انتظامیہ نے فوری طور پر تمام بوریاں ضبط کرتے ہوئے ان کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

اسسٹنٹ فوڈ کمشنر سدھیر سنگھ نے بتایا کہ ضبط شدہ چنا صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس میں شامل کیمیکل جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کے کیمیکل کے مسلسل استعمال سے کینسر جیسی جان لیوا بیماری کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر بچے اور حاملہ خواتین اس زہر کے اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔ لوگ چنے کو پروٹین کا سستا اور مفید ذریعہ سمجھ کر کھاتے ہیں، لیکن اس قسم کی ملاوٹ انسانی جسم کے اہم اعضاء کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زہریلے چنے کی یہ کھیپ دو بڑی گاڑیوں کے ذریعے مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ سے گورکھپور لائی گئی تھی۔ حکام کے مطابق ملاوٹ خوروں کا یہ نیٹ ورک کافی وسیع ہے اور گورکھپور کو ایک مرکزی سپلائی پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہاں سے یہ زہریلا چنا دیوریا، بستی، اعظم گڑھ، مئو اور سدھارتھ نگر جیسے اضلاع میں سپلائی کیا جانا تھا۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو ہزاروں افراد اس جان لیوا چنے کا شکار ہو سکتے تھے۔ محکمۂ خوراک نے اس پورے ریکیٹ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ ضبط شدہ چنے کے نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ملاوٹ میں ملوث افراد کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، تاکہ مستقبل میں کوئی بھی عوام کی صحت سے اس طرح کا کھلواڑ نہ کر سکے۔

محکمۂ خوراک نے عوام سے بھی ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر معمولی طور پر زیادہ چمکدار یا گہرے پیلے رنگ کے چنے خریدنے سے گریز کریں۔ اگر چنے کا رنگ قدرتی نہ لگے تو اس میں ملاوٹ کا شبہ ہو سکتا ہے۔ ہمیشہ معتبر اور قابلِ اعتماد دکانوں سے ہی غذائی اشیاء خریدیں اور کسی بھی قسم کے شک کی صورت میں فوراً قریبی فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں شکایت درج کرائیں۔ حکام کے مطابق، عوام کی معمولی سی احتیاط نہ صرف ان کی بلکہ ان کے پورے خاندان کی جان بچا سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read