Bharat Express DD Free Dish

آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار نے کتاب “بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں” میں شامل حکومت ہند کے NCMEI کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر کی ستائش کی

“بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں” میں شامل پروفیسر اختر نے وقف ترمیمی بل پر چلایا تاریخی عوامی بیداری مہم۔ تعلیم، حب الوطنی اور وقف اصلاحات سے بنائی متاثر کن پہچان

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر رہنما اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر اندریش کمار کی جانب سے حال ہی میں ہریانہ بھون، نئی دہلی میں رونماء شدہ کتاب ‘بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں’ ملک کی ان 115 ممتاز مسلم شخصیات کی داستان بیان کرتی ہے جنہوں نے اپنی تعلیم، تہذیب اور ترقی سے وطن پرستی کی مثال قائم کی۔ اس کتاب میں شامل نمایاں چہروں میں سے ایک ہیں پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر، جو اس وقت قومی اقلیتی تعلیمی ادارے کمیشن (NCMEI) کے قائم مقام چیئرمین ہیں۔

تعلیم، تہذیب اور ترقی کی بنیاد: جھارکھنڈ کی مٹی سے ملی تحریک

پروفیسر شاہد اختر جھارکھنڈ کے رانچی کے رہنے والے ہیں – ایک ایسی ریاست جسے ترقی کی بات کی جائے تو اکثر پسماندہ علاقوں میں گنا جاتا ہے، لیکن یہاں کی مٹی نے انہیں وہ تہذیب و ثقافت دی جو آج انہیں قومی سطح پر ممتاز کر رہی ہے۔ ان کے خاندان نے بچپن ہی سے انہیں*تعلیم، تہذیب اور ترقی* کی تربیت دی۔ وہ خود کو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے گہری تحریک لیتے ہیں۔

پروفیسر اخثر اکثر پیغمبر اسلام کے اس فرمان کو دہراتے ہیں، “جب میں تنہا اور تنہائی میں ہوتا ہوں تو ہند (ہندوستان) سے مجھے ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔” وہیں ڈاکٹر کلام کی زندگی سے انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ کس طرح محدود وسائل کے باوجود تعلیم کی طاقت سے کوئی شخص راکٹ کی
طرح بلندیوں کو چھو سکتا ہے اور ملک کو میزائل ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنا کر اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک پہنچ سکتا ہے۔

تعلیمی سفر: علی گڑھ سے رانچی تک: علم کی کوئی حد نہیں

پروفیسر اختر نے ڈاکٹر کلام کی طرح ہی تعلیم کو اپنا سب سے مضبوط ہتھیار بنایا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) سے بی ایس سی (کیمسٹری آنرز) کیا، اس کے بعد رانچی یونیورسٹی سے ایم بی اے (مارکیٹنگ مینجمنٹ) میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ پھر رانچی یونیورسٹی سے ہی ایل ایل بی کی اور آخر میں کامرس اینڈ بزنس مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

آج وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ مینجمنٹ میں پروفیسر ہیں اور نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ملک بھی بزنس مینجمنٹ کے میدان میں اپنی منفرد پہچان بنا چکے ہیں۔ ان کے 100 سے زائد تحقیقی مقالات قومی اور بین الاقوامی سطح پر شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مینجمنٹ کے موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں، جن میں گریونس مینجمنٹ، برانڈ مینجمنٹ، فنڈامینٹل ڈیجیٹل مارکیٹنگ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

حب الوطنی کا پیغام: “بھارتی مسلمان: اتحاد کی بنیاد”

پروفیسر اختر نے تحریر کو علم کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔ ان کی سب سے زیادہ زیر بحث کتابوں میں سے ایک ہے “بھارتی مسلمان: اتحاد کی بنیاد – حب الوطنی (قوم پرستی)”۔ اس کتاب کا مقصد ہندو-مسلم اتحاد، قومی یکجہتی اور وطن پرستی کے جذبے کو مضبوط کرنا ہے۔ وقف ترمیمی بل 2024 پر بھی انہوں نے “Waqf Bill 2024: Respect to Islam and Gift for Muslims” کے نام سے کتاب لکھی، جس میں انہوں نے اس بل کے اسلامی اقدار کے مطابق ہونے اور مسلم معاشرے کے لیے اس کے فوائد کو تفصیل سے واضح کیا۔

وقف بل: غلط فہمیاں دور کیں، اتحاد قائم کیا: جب پروفیسر اختر نے کمان سنبھالی

جب حکومت وقف (ترمیمی) بل 2024 لے کر آئی تو بعض سیاسی عناصر نے مسلم معاشرے میں یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی کہ یہ قانون وقف املاک پر قبضے کے لیے ہے۔ اس نازک وقت میں پروفیسر شاہد اختر نے محاذ سنبھالا اور پورے ملک میں مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔

انہوں نے ملک بھر کی 100 سے زائد مسلم تنظیموں اور لاکھوں مسلمانوں کو یکجا کرتے ہوئے وقف (ترمیمی) بل کی حمایت میں وسیع عوامی بیداری مہم چلائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بل کا اصل مقصد وقف املاک کو زمینداروں (لینڈ مافیا) اور کرپٹ نظام سے نجات دلانا ہے، تاکہ ان کا استعمال غریبوں، ضرورت مندوں اور خواتین کے مفاد میں کیا جا سکے۔

پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھے خیالات: وقف انسائیکلوپیڈیا تیار کیا

پروفیسر اختر نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے سامنے اپنے خیالات رکھے اور مختلف مسلم تنظیموں کو بھی کمیٹی کے سامنے اپنا موقف رکھنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کمیٹی کو سمجھایا کہ یہ بل وقف املاک کو زیادہ شفاف، منظم اور جوابدہ بنائے گا۔

ان کی قیادت میں مسلم راشٹریہ منچ (MRM) کے چار رکنی وفد نے JPC کے چیئرمین جگدمبیکا پال سے ملاقات کی اور وقف انتظامیہ میں اصلاحات کے لیے تفصیلی تجاویز دیں۔ اس دوران انہوں نے “وقف ترمیمی انسائیکلوپیڈیا” کے نام سے ایک مفصل دستاویز تیار کی، جسے ملک بھر میں لاکھوں لوگوں تک پہنچایا گیا۔

متعدد اخبارات میں شائع ہونے والی خبر: بل کو “نئی شروعات” قرار دیا

27 جنوری 2025 کو ہندوستان ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق، پروفیسر شاہد اختر نے وقف ترمیمی بل کو سماجی مساوات اور ترقی کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل محض ایک قانون نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک “نئی شروعات” ہے۔

MRM کی خواتین ونگ کی سربراہ شالینی علی نے بھی اس بل کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بناتا ہے، جس سے معاشرے میں مساوات اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

اعزازات اور انعامات: قومی اور بین الاقوامی پہچان

پروفیسر شاہد اختر کو تعلیم، سماجی اصلاحات اور قومی یکجہتی میں تعاون کے لیے متعدد باوقار اعزازات ملے ہیں۔ ان میں مہاتما گاندھی ایکسیلنس ایوارڈ 2024، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اعزازی ایوارڈ 2023، گریٹ ہیومینیٹیرین ایوارڈ 2021، سرسید ایوارڈ، سردار پٹیل ایوارڈ 2018 اور نیشنل رتن ایوارڈ 2016 شامل ہیں۔ NCMEI کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، انہیں اب تک 100 سے زیادہ قومی اور بین الاقوامی اعزازات مل چکے ہیں۔

زمینی سطح پر کام: جھارکھنڈ کی بیٹیوں کے لیے تحریک

جب بھی پروفیسر اختر اپنے آبائی مقام رانچی واپس جاتے ہیں، وہ وہاں کے مسلم اور ہندو قبائلی بچوں کو تعلیم کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے وہاں ایک کتب خانہ قائم کیا ہے اور بچوں کو اچھی کتابیں مہیا کراتے ہیں۔ وہ بچوں سے کہتے ہیں:

“ہمارے مذہبی عقائد چاہے مختلف ہوں، لیکن ہم سب بھارت ماتا کی اولاد ہیں۔ ہمارا ڈی این اے ایک ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کرنا چاہیے۔”

خصوصاً بیٹیوں کی تعلیم پر ان کا خاص زور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جھارکھنڈ کی بیٹیاں آج تیراندازی اور ہاکی جیسے کھیلوں میں ملک کا نام روشن کر رہی ہیں، اس لیے ہر ماں باپ کو اپنی بیٹیوں کو آگے بڑھنے کا پورا موقع دینا چاہیے۔

متعدد ذمہ داریاں: مختلف شعبوں میں تعاون

پروفیسر اختر اس وقت قومی اقلیتی تعلیمی ادارے کمیشن (NCMEI) کے قائم مقام چیئرمین ہیں۔ اس سے قبل وہ جھارکھنڈ ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین (کابینی وزیر کا درجہ) اور قومی اردو زبان فروغ کونسل (NCPUL) کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اندرا گاندھی قبائلی یونیورسٹی میں وزیٹر (صدر نامزد) ممبر بھی ہیں۔

راشٹروادی مسلمانوں کی آواز: متاثر کن زندگی

پروفیسر شاہد اختر آج راشٹروادی (قوم پرست) مسلمانوں کی مضبوط اور متاثر کن آواز بن چکے ہیں۔ وہ اقلیتی برادری کو حکومتی اصلاحات اور قومی ترقی کی مرکزی دھارے سے جوڑنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ان کی موجودگی انتہائی مؤثر ہے۔

‘بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں’ کتاب میں ان کا شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم، تہذیب، ترقی اور وطن دوستی ہی سے حقیقی ہندوستان کی تعمیر ممکن ہے۔ ڈاکٹر اندریش کمار نے کتاب کی رونمائی کے موقع پر پروفیسر اختر سمیت تمام 115 شخصیات کے تعاون کی ستائش کی اور حب الوطنی و وطن پرستی کے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر اختر کی زندگی اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اگرارادے مضبوط ہوں تو محدود وسائل بھی لامحدود کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ وہ آج لاکھوں نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں اوران کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اندھیرے سے اجالے کی طرف لے جاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read