بھارت نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے سب سے بڑے نجی سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ کے ساتھ تاریخ رقم کر دی ہے۔ بنگلورو کی نجی خلائی کمپنی گلیکسی آئی نے اپنے اہم مشن ’درشٹی‘ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا، جسے عالمی سطح پر نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سیٹلائٹ امریکہ کے کیلیفورنیا سے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے 3 مئی کو خلا میں بھیجا گیا۔ اس تاریخی کامیابی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے بھارت کی خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”مشن درشٹی کا کامیاب لانچ بھارت کی خلائی تحقیق میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہے۔ یہ دنیا کا پہلا آپٹوسار سیٹلائٹ ہے اور ملک میں تیار کیا گیا سب سے بڑا نجی سیٹلائٹ بھی ہے، جو نوجوانوں کے جذبے اور اختراع کی بہترین مثال ہے“۔
مشن درشٹی کو کئی حوالوں سے منفرد قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریباً 190 کلوگرام وزنی یہ سیٹلائٹ نہ صرف سائز کے لحاظ سے بڑا ہے بلکہ اس میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ اس سیٹلائٹ کی سب سے بڑی خاصیت ”آپٹوسار“ ٹیکنالوجی ہے، جو دو مختلف سسٹمز—آپٹیکل کیمرا اور سنتھیٹک اپرچر ریڈار (ایس اے آر)—کو یکجا کرتی ہے۔ اس امتزاج کی بدولت سیٹلائٹ ہر موسم اور ہر وقت زمین کی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روایتی سیٹلائٹس عموماً یا تو بصری تصاویر لیتے ہیں یا ریڈار کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔ آپٹیکل کیمرے صاف اور رنگین تصاویر فراہم کرتے ہیں، لیکن بادلوں یا اندھیرے میں ان کی کارکردگی محدود ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس ریڈار سسٹمز ہر موسم میں کام کرتے ہیں، مگر ان کی تصاویر اتنی واضح نہیں ہوتیں۔ “آپٹوسار” ٹیکنالوجی ان دونوں نظاموں کو یکجا کر کے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جو بیک وقت واضح تصاویر اور ہر موسم میں مؤثر نگرانی ممکن بناتا ہے۔
Mission Drishti by GalaxEye marks a major achievement in our space journey. The successful launch of the world’s first OptoSAR satellite and the largest privately-built satellite in India is a testament to our youth’s passion for innovation and nation-building.
Heartiest…
— Narendra Modi (@narendramodi) May 3, 2026
ماہرین کے مطابق اس سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مختلف شعبوں میں انقلاب لا سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع، زرعی پیداوار کی بہتری اور سرحدی سلامتی جیسے اہم امور میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال نہایت مؤثر ثابت ہوگا۔ حکومت اور تحقیقاتی ادارے اس ڈیٹا کی مدد سے تیز اور بہتر فیصلے کر سکیں گے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ کامیابی ہندوستان کے نجی خلائی شعبے کے لیے بھی ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک میں نجی کمپنیوں کی شمولیت سے خلائی تحقیق میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ عالمی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے بھارتی اسٹارٹ اپس نہ صرف جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر رہے ہیں بلکہ کم وقت میں بڑے مشنز مکمل کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہے ہیں۔
گلیکسی آئی کا یہ مشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی نوجوان اور سائنسدان عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کامیابی نے نہ صرف ملک کی سائنسی برادری کا حوصلہ بڑھایا ہے بلکہ عالمی خلائی صنعت میں ہندوستان کی پوزیشن کو بھی مزید مضبوط کیا ہے۔ مستقبل میں ایسے مزید مشنز کی توقع کی جا رہی ہے، جو زمین کی نگرانی، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور خلائی تحقیق کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ ’مشن درشٹی‘ کو ایک ایسے سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو نہ صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں بلکہ قومی ترقی کے سفر میں بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


