Bharat Express DD Free Dish

Bihar Flood Alert: بہار میں سیلاب کا قہر، پٹنہ میں گنگا نے 2016 کا ریکارڈ توڑا، کئی علاقوں میں تیز بارش کا الرٹ جاری، 11 اضلاع میں 16.85 لاکھ افراد متاثر

محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست کے کئی اضلاع میں ہلکی سے درمیانی اور بعض مقامات پر شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔ اگر اس دوران تیز بارش ہوئی تو دریاؤں کی سطح آب مزید بڑھ سکتی ہے۔

نئی دہلی: بہار میں سیلاب کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ پٹنہ کے گاندھی گھاٹ پر گنگا کی سطح آب 50.57 میٹر تک پہنچ گئی ہے، جو 2016 کی بلند ترین سطح سے 5 سینٹی میٹر زیادہ ہے۔ ریاست کی کئی دیگر ندیاں بھی خطرے کے نشان سے کافی اوپر بہہ رہی ہیں۔ پٹنہ کے سری پال پور میں پن پن ندی خطرے کے نشان سے 2.84 میٹر اوپر ہے۔ سیلاب کا اثر ریاست کے 11 اضلاع تک پہنچ چکا ہے، جس سے تقریباً 16.85 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ گنگا کے چھ نگرانی مراکز پر شدید سیلاب کی صورتحال ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے پیش نظر دریاؤں کی سطح آب پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنگا کے ساتھ ساتھ کوسی، گنڈک اور باگمتی جیسی اہم ندیاں بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی 34 ٹیمیں راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کئی علاقوں میں تیز بارش کا الرٹ جاری کیا ہے، جس سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

11 اضلاع میں سیلاب کا اثر

ریاست کے 11 اضلاع بھوجپور، سارن، ویشالی، بھاگلپور، بیگوسرائے، بکسر، سمستی پور، مونگیر، کٹیہار، ارول اور پٹنہ اس وقت پانی کے دباؤ سے دوچار ہیں۔ تقریباً 61 بلاکس کی 300 سے زیادہ گرام پنچایتیں سیلاب کی زد میں ہیں۔ کھیتوں میں کھڑی فصلیں زیر آب آ چکی ہیں، جبکہ کئی راستوں پر پانی جمع ہونے کے باعث دیہات کا ضلع ہیڈکوارٹرز سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ایسے میں لوگ بلند مقامات یا پشتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 16.85 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ دریاؤں میں پانی بڑھنے کے ساتھ نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کا کام مسلسل جاری ہے۔

پٹنہ کے گاندھی گھاٹ پر گنگا کی سطح آب 50.57 میٹر تک پہنچ گئی ہے، جو 2016 کی بلند ترین سطح 50.52 میٹر سے 5 سینٹی میٹر زیادہ ہے۔ پانی میں اضافے کا رجحان اب بھی برقرار ہے۔ اس کے علاوہ ضلع کے پندرک میں بھی دریا نے 2021 کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یہاں سطح آب 43.78 میٹر ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ بلند ترین سطح سے 5 سینٹی میٹر زیادہ ہے۔ دونوں مقامات پر پانی کا بہاؤ تیز ہونے سے دیارا اور آس پاس کے علاقوں میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔

پن پن خطرے کے نشان سے 2.84 میٹر اوپر

پٹنہ کے سری پال پور میں پن پن ندی کی سطح آب 53.44 میٹر ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ یہاں خطرے کا نشان 50.60 میٹر ہے۔ یعنی ندی خطرے کے نشان سے 2.84 میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پانی کی سطح اب بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کے بعد کھگڑیا میں بوڑھی گنڈک خطرے کے نشان سے 1.65 میٹر اوپر ہے۔ یہاں پانی کی سطح 38.23 میٹر ہے، جبکہ خطرے کا نشان 36.58 میٹر ہے۔ سمستی پور کے محی الدین نگر میں بایا ندی بھی 1.12 میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ یہاں پانی 44.59 میٹر تک پہنچ گیا ہے۔

کئی دیگر ندیاں بھی خطرے کے نشان سے اوپر

گنگا کے علاوہ بوڑھی گنڈک، بایا، پن پن، ہرہوہر، باگمتی اور گھاگھرا کا پانی بھی خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔ لکھی سرائے کے منکٹھا میں ہرہوہر 43 سینٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ کھگڑیا کے بدلا گھاٹ میں باگمتی 9 سینٹی میٹر اوپر ہے۔ وہیں سیوان کے گنگ پور سسوان میں گھاگھرا کی سطح آب خطرے کے نشان سے 2 سینٹی میٹر اوپر پہنچ گئی ہے۔ ان تمام مقامات پر پانی میں اضافے کا رجحان برقرار ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

راحت اور بچاؤ کے لیے 34 ٹیمیں میدان میں

صورتحال سے نمٹنے کے لیے این ڈی آر ایف کی 7 اور ایس ڈی آر ایف کی 27 ٹیمیں تعینات ہیں۔ کشتیوں کے ذریعے پانی میں گھرے دیہات سے لوگوں کو نکال کر راحتی کیمپوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ جن علاقوں میں پانی کا جماؤ زیادہ ہے، وہاں راشن اور پینے کے پانی کے پیکٹ پہنچائے جا رہے ہیں۔ پشتوں پر دن رات نگرانی کی جا رہی ہے، تاکہ دباؤ بڑھنے کی صورت میں کٹاؤ کو روکا جا سکے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست کے کئی اضلاع میں ہلکی سے درمیانی اور بعض مقامات پر شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔ اگر اس دوران تیز بارش ہوئی تو دریاؤں کی سطح آب مزید بڑھ سکتی ہے۔ پٹنہ سمیت 11 اضلاع میں پہلے ہی تقریباً 17 لاکھ آبادی پانی سے دوچار ہے، ایسے میں آنے والے دو دن انتہائی نازک ثابت ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read