مرکزی وزیر پیوش گوئل۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: کامرس اور صنعتوں کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بدھ کے روز کہا کہ اکتوبر میں تقریباً 12 فیصد گراوٹ درج کرنے کے بعد بھارت کے برآمدات نے نومبر میں ’’صحت مند اور مضبوط‘‘ اضافہ دکھایا ہے اور دونوں مہینوں کے مجموعی اعداد و شمار بھی مثبت رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سی آئی آئی کے ایک پروگرام کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گوئل نے کہا کہ نومبر میں اشیا کی برآمدات میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ وہ اکتوبر کی کمی سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر اکتوبر اور نومبر دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو عالمی اقتصادی اتار چڑھاؤ کے باوجود مجموعی طور پر برآمدات میں اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے‘‘۔ البتہ انہوں نے نومبر کے مخصوص اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے، جبکہ وزارتِ تجارت 15 دسمبر کو باضابطہ تجارتی اعداد و شمار جاری کرے گی۔
امریکہ کی جانب سے زیادہ درآمدی ڈیوٹی عائد کیے جانے کے سبب اکتوبر میں بھارت کی برآمدات 11.8 فیصد گھٹ گئی تھیں، جبکہ سونے کی بھاری درآمد نے تجارتی خسارے کو بڑھا کر ریکارڈ 41.68 ارب ڈالر تک پہنچا دیا تھا۔ روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 90 سے نیچے جانے کے سوال پر وزیر تجارت نے کہا کہ اس کے باوجود بھارتی معیشت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری سہ ماہی میں 8.2 فیصد معاشی نمو، کئی برسوں میں سب سے کم خردہ مہنگائی، مضبوط زرمبادلہ ذخائر اور بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اس بات کی علامت ہیں کہ بھارتی معیشت استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
گوئل نے یہ بھی بتایا کہ بھارت مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں عالمی تجارتی شراکت داریوں کے حوالے سے کئی مثبت اعلانات متوقع ہیں۔ فی الحال بھارت امریکہ، یورپی یونین، نیوزی لینڈ، عمان، چِلی اور پیرو سمیت متعدد ملکوں کے ساتھ ایف ٹی اے پر بات چیت کر رہا ہے۔
قبل ازیں، سی آئی آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوئل نے صنعتوں کو مشورہ دیا کہ عالمی سطح پر تجارت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے بھارت کو کئی اہم شعبوں میں خود کفیل ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ درآمدی ڈیوٹی، برآمدی پابندیوں اور ضروری خام مال کی سپلائی روکنے جیسے اقدامات بھارتی صنعتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ گوئل نے خبردار کیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں چین کا بھارت کے صنعتی درآمدات میں حصہ 21 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد ہونا تشویشناک ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ جدت، سپلائی چین میں تنوع اور گھریلو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرکے خود انحصاری کو مضبوط بنائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
