بی جے پی رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ۔ (فائل فوٹو)
لکھنؤ: ‘माता भूमि: पुत्रोऽहं पृथिव्या:’ – “زمین ہماری ماں ہے اور ہم اس کے بیٹے ہیں” (اتھرو وید)۔ لیکن آج ہم اپنی زمین کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں، وہ ہمیں تباہی کی راہ پر لے جا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب ماحولیاتی بحران کی پیش گوئی کی جاتی تھی، لیکن اب ہم اسی بحران میں جی رہے ہیں۔
ہر سال 22 اپریل “ورلڈ ارتھ ڈے” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے۔ اس موقع پر لکھنؤ کے سروجنی نگر سے ممبر اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے تعلق سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2024 کو انسانی تاریخ کے گزشتہ ایک لاکھ سالوں کا سب سے گرم سال قرار دیا گیا ہے۔ عالمی اوسط درجہ حرارت 15.1 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو 1991 سے 2020 کے اوسط درجہ حرارت سے 0.72 ڈگری اور سال 2023 سے 0.12 ڈگری زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پيرس معاہدے کی 1.5 ڈگری کی حد پہلے ہی عبور ہو چکی ہے۔ اس درجہ حرارت میں خطرناک اضافہ کوئلہ، تیل اور گیس کے بے دریغ استعمال کا نتیجہ ہے۔
“माता भूमिः पुत्रो अहं पृथिव्याः” – अथर्ववेद
हे पृथ्वी मां! हम सब आपकी संतान हैं।Every fraction of a degree matters!!
अब संकट की ओर नहीं बढ़ रहे, हम संकट में जी रहे हैं।पेरिस समझौते की 1.5 डिग्री की सीमा टूट चुकी है, वर्ष 2024 पिछले एक लाख वर्षों का सबसे गर्म साल रहा है!… pic.twitter.com/WkyKLJEzXA
— Rajeshwar Singh (@RajeshwarS73) April 22, 2025
ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، سمندری سطح بلند ہو رہی ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ماحول کو زہر آلود بنا رہا ہے۔ بھارت میں صرف 2019 میں 23 لاکھ سے زائد قبل از وقت اموات کا سبب آلودگی بنی، جن میں سے 16 لاکھ اموات ہوا اور 5 لاکھ اموات پانی کی آلودگی سے ہوئیں۔ ہر بھارتی شہری ایسی جگہ رہتا ہے جہاں PM2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے۔
تشویشناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت میں دنیا کی 18% آبادی رہتی ہے، لیکن پینے کے پانی کے وسائل صرف 4% ہیں۔ ہمالیائی گلیشیئرز ہر سال 0.5 میٹر سکڑ رہے ہیں، اور ملک کی 32% زمین کٹاؤ اور بنجرپن کی زد میں ہے۔
اندازہ ہے کہ اگر حالات یونہی رہے تو 2050 تک زمین پر موجود 50% حیاتیاتی اقسام ختم ہو سکتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کریں۔ سب سے آسان اور مؤثر قدم “درخت لگانا” ہے، جو ماحول کو بہتر بنانے کی سمت میں انقلابی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ساتھ ہی ہمیں اپنی طرز زندگی میں “Reduce, Reuse, Recycle (RRR)” کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ اسی لیے ورلڈ ارتھ ڈے پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم زمین ماں کو دوبارہ سرسبز، صاف اور صحت مند بنائیں گے۔
आज ‘पर्यावरण संरक्षण’ की आवश्यकता युवा पीढ़ी के सामने सबसे बड़ी चुनौती के रूप में खड़ी है।
जलवायु परिवर्तन, प्रदूषण और जैव विविधता का संकट ये सभी हमें स्पष्ट चेतावनी दे रहे हैं कि यदि अभी भी नहीं जागे तो भविष्य अत्यंत कठिन होगा।
इन समस्याओं का दीर्घकालिक समाधान… pic.twitter.com/bofLQyTURz
— Rajeshwar Singh (@RajeshwarS73) April 22, 2025
اسی سلسلے میں، ممبر اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے آج ورلڈ ارتھ ڈے کے موقع پر، اتر پردیش ثانوی تعلیم بورڈ کے تحت رجسٹرڈ تقریباً 55 لاکھ طلبہ کو ماحولیات کی تعلیم دینے کی تجویز پیش کی ۔ ان میں 27.4 لاکھ ہائی اسکول طلبہ شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ارسال کردہ ایک مکتوب میں راجیشور سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کو اسکولی نصاب میں لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے، تاکہ آئندہ نسلیں فطرت کو صرف استعمال کی شے نہیں بلکہ قابل احترام “مادر وطن” کے طور پر دیکھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


